تکبیر نیوز (لندن، برطانیہ): سابق برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس سے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد لندن کے اس حلقے میں ضمنی انتخاب کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
کیئر اسٹارمر نے اپنے مقامی اخبار کیمڈن نیو جرنل کو بتایا کہ وہ کافی غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب ہاؤس آف کامنز سے رخصت ہونے کا درست وقت آگیا ہے اور وہ بین الاقوامی امور سے متعلق نئے کام پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ اپنے جانشین کو ذمہ داری سونپنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس کے عوام کی نمائندگی کرنا ان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز اور موقع رہا ہے۔
کیئر اسٹارمر 2015 سے شمالی لندن کے اس حلقے کے رکن پارلیمنٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وہ بین الاقوامی امور، خصوصاً دفاع، سکیورٹی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے پر توجہ دیں گے۔
انہوں نے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اپنے کام کو بھی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ان کے لیے انتہائی اہم ہے اور وہ رکن پارلیمنٹ بننے سے پہلے بھی اس حوالے سے کام کرتے رہے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے مقامی لیبر پارٹی کے عہدیداران کو بھی پارلیمنٹ چھوڑنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیئر اسٹارمر پہلے ہی وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور ان کی جگہ اینڈی برنہم برطانوی وزیراعظم کا منصب سنبھال چکے ہیں۔
کیئر اسٹارمر کی جانب سے پارلیمنٹ چھوڑنے کے بعد ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس میں ہونے والا ضمنی انتخاب ان کے جانشین کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان بن سکتا ہے، کیونکہ یہ حلقہ طویل عرصے سے لیبر پارٹی کا مضبوط انتخابی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے چیئرمین کیون ہولن ریک نے کیئر اسٹارمر کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سابق وزیراعظم کا ایک اور ’’یو ٹرن‘‘ قرار دیا۔
کیون ہولن ریک نے کہا کہ اگرچہ کنزرویٹو پارٹی نے کیئر اسٹارمر کے بیشتر فیصلوں سے اختلاف کیا، تاہم وہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے مستقبل میں نیک خواہشات رکھتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیئر اسٹارمر نے اس سے قبل پارلیمنٹ میں رہنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاہم اب رکن پارلیمنٹ کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ان کے لیے ایک اور سیاسی تبدیلی ہے۔
کنزرویٹو پارٹی کے مطابق ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس میں ہونے والا ضمنی انتخاب ٹیکس دہندگان کے لیے اضافی اخراجات کا باعث بنے گا، جبکہ پارٹی نے کہا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حلقے کے عوام کو اپنی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کے بارے میں فیصلہ دینے کا موقع فراہم کرے گی۔
کیئر اسٹارمر کا پارلیمنٹ سے الگ ہونے کا فیصلہ برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس کے ضمنی انتخاب کے نتائج سابق وزیراعظم کے سیاسی مستقبل اور لیبر پارٹی کی مقبولیت کے حوالے سے بھی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔
