تکبیر نیوز (ویلز): ویلز کے نیشنل ہیلتھ سروس NHS Wales نے جنس کی تصدیقی سرجریوں کے تمام نئے ریفرلز اور پہلے سے شیڈول سرجریاں عارضی طور پر روک دی ہیں، جبکہ مریضوں کی جانب سے سرجری کے لیے کیے جانے والے ریفرلز کی تعداد اور انگلینڈ میں فراہم کی جانے والی خدمات کے درمیان فرق کا جائزہ لینے کے لیے آزادانہ طبی تحقیق شروع کر دی گئی ہے۔
ویلش جینڈر سروس (WGS)، جو کارڈف کے سینٹ ڈیوڈز ہسپتال میں قائم ہے، کو NHS کمشنرز کی جانب سے اضافی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ حکام نے بعض ریفرلز کی ’’موزونیت‘‘ سے متعلق بھی خدشات ظاہر کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے بعض ایسے مریض بھی متاثر ہوئے ہیں جو اپنی سرجری کے لیے پہلے ہی ہسپتال میں داخل ہو چکے تھے۔ فیصلے کے خلاف احتجاج بھی کارڈف میں کیا جا رہا ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آزادانہ جائزہ کتنے عرصے تک جاری رہے گا اور روکی گئی سرجریاں دوبارہ کب شروع کی جائیں گی۔
جنس کی تصدیقی سرجریوں میں مختلف طبی طریقہ کار شامل ہو سکتے ہیں، جن میں چھاتی کو ہٹانا، ہسٹریکٹومی، عضو تناسل کو ہٹانا اور مصنوعی عضو تناسل یا اندام نہانی کی تشکیل شامل ہے۔
کارڈف اینڈ ویل یونیورسٹی ہیلتھ بورڈ، جو ویلش جینڈر سروس چلاتا ہے، نے کہا ہے کہ اس عمل کے دوران متاثرہ مریضوں کے ساتھ عزت، ہمدردی اور مناسب تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ہیلتھ بورڈ کے ایگزیکٹو میڈیکل ڈائریکٹر ڈیوڈ فلک کے مطابق NHS Wales Joint Commissioning Committee (NWJCC) نے آزادانہ کلینیکل جائزہ مکمل ہونے تک جنس کی تصدیقی سرجری کے ریفرلز، سرجیکل اسیسمنٹس اور سرجریوں کو روکنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ویلش جینڈر سروس کی دیگر سہولیات، جن میں ہارمون تھراپی، اینڈوکرائن ریویو، نفسیاتی معاونت اور اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپی شامل ہیں، معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ 24 اگست 2026 کو ہونے والے NWJCC کے کوالٹی، سیفٹی اینڈ آؤٹ کمز کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا، جہاں ویلش جینڈر سروس کو NHS کے باضابطہ بہتری اور نگرانی کے عمل کے تحت لیول 3 پر منتقل کیا گیا۔
ہیلتھ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے خدشات سے آگاہ ہے اور متاثرہ افراد کو ان کی انفرادی صورتحال کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے براہ راست آگاہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب NHS Wales Joint Commissioning Committee نے اس اقدام کو احتیاطی اور طبی بنیادوں پر اٹھایا جانے والا قدم قرار دیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جنس کی سرجری کے لیے کیے جانے والے ریفرلز مضبوط معیار، مریضوں کی حفاظت اور مؤثر طبی نگرانی کے نظام کے تحت ہوں۔
کمیٹی نے کہا کہ فیصلہ معمول کے معیار اور یقین دہانی کے عمل کے دوران سامنے آنے والے ریفرل ڈیٹا، طبی رائے اور سروس کے طریقہ کار سے متعلق موصول ہونے والی خط و کتابت کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
تاہم ٹرانس جینڈر کارکنوں کی تنظیم TransActual نے NHS Wales کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سرجری کے منتظر ٹرانس افراد پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ جن مریضوں کو سرجری کی ضرورت ہے ان کے لیے خدمات بحال کی جائیں۔
TransActual کے مطابق ویلش جینڈر سروس کی جانب سے انگلینڈ کے مقابلے میں زیادہ مریضوں کو ریفر کیے جانے کو مسئلہ سمجھنے سے پہلے مکمل تحقیقات ضروری تھیں۔ تنظیم نے فیصلے کو مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے NHS Wales اور ویلش حکومت سے اپنے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر ویلش حکومت نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے خدشات کو سمجھتی ہے اور متاثرہ افراد کو کارڈف اینڈ ویل یونیورسٹی ہیلتھ بورڈ کی جانب سے دستیاب معاونت کی طرف رہنمائی کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا NHS England میں جنس کی سرجری سے متعلق ایک الگ جائزہ بھی جاری ہے، جس کی حتمی رپورٹ 2027 میں سامنے آنے کی توقع ہے۔
ویلز میں جاری آزادانہ جائزے کے بعد یہ فیصلہ سامنے آئے گا کہ جنس کی تصدیقی سرجریوں کے ریفرلز اور موجودہ طبی طریقہ کار میں مزید کیا تبدیلیاں درکار ہیں اور روکی گئی سرجریاں کب دوبارہ شروع کی جا سکیں گی۔
