برمنگھم: برمنگھم میں رواں سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کو متاثر کرنے، خاندان کے افراد کی جانب سے ووٹ پر اثرانداز ہونے اور انتخابی عملے سے بدسلوکی کے 50 سے زائد واقعات سامنے آگئے، جس کے بعد پولیس اور انتخابی نگران ادارے نے معاملے کا جائزہ شروع کردیا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے دوران بعض پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عملے کو اس وقت سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب اہلکاروں نے رشتہ داروں یا انتخابی مہم چلانے والے افراد کو ووٹرز کے ساتھ پولنگ بوتھ میں جانے یا انہیں کسی مخصوص امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے پر اثرانداز ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔
ایک واقعے میں ایک خاتون رشتہ دار نے اس وقت غصے میں آکر بیلٹ پیپر پھاڑ کر انتخابی اہلکار کی جانب پھینک دیا جب اسے اپنی بیٹی کے ووٹ پر اثرانداز ہونے سے روکا گیا۔
انتخابی عملے کی جانب سے مرتب کی گئی اندرونی رپورٹ میں شہر کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر 50 سے زائد واقعات درج کیے گئے ہیں۔ یہ دستاویز معلومات کی آزادی کے قانون کے تحت سامنے آئی، جس کے بعد انتخابی عمل میں مبینہ خاندانی اثراندازی اور ووٹرز کو دباؤ میں لانے کے الزامات کی مزید جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
7 مئی کو ہونے والے انتخابات میں برمنگھم سٹی کونسل کی 101 نشستوں کے لیے امیدوار میدان میں تھے۔ یہ انتخابات شہر کی حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ تقسیم اور کشیدہ انتخابات میں شمار کیے گئے، جبکہ بڑی تعداد میں امیدواروں نے حصہ لیا۔ انتخابات کے بعد کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت نہ مل سکی اور گرین، لبرل ڈیموکریٹس اور بیٹر برمنگھم انڈیپنڈنٹس پر مشتمل اتحاد نے کونسل کا انتظام سنبھال لیا۔
رپورٹ کے مطابق گیریٹس گرین، بالسال ہیتھ ویسٹ، آسٹن، سوہو اور جیولری کوارٹر سمیت مختلف علاقوں کے پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عملے نے نامناسب رویے، بدتمیزی اور جارحانہ انداز کی شکایات درج کیں۔
ہینڈزورتھ ووڈ میں عملے نے بتایا کہ جب لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ووٹ ڈالنے یا باہمی تعاون سے روکنے کی ہدایت کی گئی تو بعض افراد نے اپنی زبان تبدیل کرلی۔
کوئنٹن میں ایک خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ پولنگ بوتھ میں داخل ہوئی اور عملے کو بتایا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی ’’درست طریقے سے ووٹ‘‘ ڈالے۔
آسٹن کے ایک پولنگ اسٹیشن کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہاں انتخابی مہم چلانے والے افراد ووٹرز کو اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے میں ’’مدد‘‘ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ بعض افراد پولنگ اسٹیشن کے اندر کھڑے ہوکر گفتگو کرتے رہے اور ان کے رویے سے بعض خواتین ووٹرز نے خود کو غیر آرام دہ محسوس کیا۔
بالسال ہیتھ ویسٹ کے پولنگ اسٹیشن پر عملے نے دباؤ اور ذہنی تناؤ کی شکایت کی۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ ایک شخص آنکھیں جھپکانے، ہاتھ کے اشاروں اور دیگر علامتی حرکات کے ذریعے ووٹرز کو بیلٹ پیپر پر مخصوص جگہ نشان لگانے کی طرف متوجہ کررہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق عملے نے اسے روکنے کی کوشش کی تو وہ مبینہ طور پر انتخابی عملے پر ہی انتخابی دھاندلی کا الزام لگانے لگا۔
الَم راک میں متعدد افراد کے ایک ہی پولنگ بوتھ میں داخل ہونے، موبائل فون، قلم اور شناختی دستاویزات کے استعمال سے متعلق واقعات رپورٹ ہوئے، جنہیں عملے نے مقررہ ضابطوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔
بارٹلی گرین میں بعض افراد نے اہلکاروں سے اس وقت بحث کی جب انہیں پولنگ بوتھ کے اندر دوسروں سے گفتگو کرنے سے روکا گیا اور انہوں نے غصے میں کہا کہ وہ اپنی اہلیہ سے بات کررہے ہیں۔
گیریٹس گرین میں ایک والد کے بارے میں رپورٹ کیا گیا کہ اس نے خاندان کے افراد کے تمام انتخابی کارڈ اور پاسپورٹ اپنے پاس رکھے ہوئے تھے اور ہر فرد کو ووٹ ڈالنے کے طریقے کے بارے میں ہدایات دے رہا تھا۔
ہال گرین نارتھ میں ایک ووٹر نے اس وقت انتخابی اہلکار کو گالی دی جب اسے پولنگ بوتھ کے اندر دوسرے ووٹرز سے بات کرنے اور امیدواروں یا جماعتوں کے بارے میں اثرانداز ہونے سے روکا گیا۔
پولنگ اسٹیشنز کے سربراہ اہلکاروں نے کئی مقامات پر ووٹرز کو یاد دہانی کرائی کہ قانون کے تحت کسی دوسرے شخص کے ساتھ پولنگ بوتھ میں داخل ہونا ممنوع ہے اور کسی ووٹر کو یہ بتانا بھی خلافِ ضابطہ ہے کہ بیلٹ پیپر پر کس امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگانا ہے۔
مہم چلانے والے امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر موجود رہنے کی اجازت ہوتی ہے، تاہم ان پر ووٹرز کے انتخاب پر اثرانداز ہونے کی پابندی ہے۔
مغربی مڈلینڈز پولیس نے کہا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی معلومات کا جائزہ لیا جائے گا اور پولیس برمنگھم سٹی کونسل اور انتخابی کمیشن کے ساتھ مل کر معاملے کا جائزہ لے گی۔
برمنگھم سٹی کونسل کے مطابق ریٹرننگ افسر نے خاندانی طور پر ووٹ ڈالنے سے متعلق دستیاب تمام مشاہدات پولیس کو فراہم کردیے تھے اور کونسل کو بتایا گیا تھا کہ پولیس نے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ نئی سامنے آنے والی معلومات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور انتخابی عمل کے مجموعی جائزے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔
انتخابی کمیشن نے بھی کہا ہے کہ وہ مئی 2026 کے انتخابات سے متعلق شواہد جمع کررہا ہے اور آنے والے ہفتوں میں اپنی تحقیقات کے نتائج شائع کرے گا۔ کمیشن کے مطابق وہ انتخابات کی شفافیت اور سالمیت کے تحفظ کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر انتخابی بدعنوانی اور ووٹرز کو دھمکانے کے الزامات کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔
برمنگھم میں ریفارم یو کے کے گروپ لیڈر جیکس پارکن نے کہا کہ ان کی جماعت نے معلومات کی آزادی کے قانون کے تحت درخواست اس لیے دائر کی تھی تاکہ خاندانی اثراندازی سے متعلق دعوؤں کی حقیقت معلوم کی جاسکے۔
ان کے مطابق تشویش کی بات یہ تھی کہ پولنگ عملے کو ووٹ کی رازداری برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی اور بعض مواقع پر ایسا کرنے پر انہیں جارحانہ رویے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
پارکن نے کہا کہ ووٹ ڈالنے کی آزادی اور رازداری جمہوریت کی بنیادی بنیادوں میں شامل ہیں اور کسی بالغ شخص کے ووٹ پر کسی دوسرے فرد کو دباؤ ڈالنے یا اس کی جگہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے برمنگھم سٹی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات کے بعد ہونے والے مکمل جائزے کو منظرعام پر لایا جائے، پولیس کو بھیجے گئے واقعات کے نتائج واضح کیے جائیں اور آئندہ انتخابات سے پہلے ووٹرز کو دباؤ اور اثراندازی سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید سخت انتظامات کیے جائیں۔
