برطانیہ: پولیس افسر بن کر شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور مالی معلومات حاصل کرنے والے جعلسازوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا، جس پر ویسٹ مرسیا پولیس نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے فراڈ سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط کی ہدایت کردی ہے۔
پولیس کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد شہریوں کو ایسے فون موصول ہورہے ہیں جن میں جعلساز خود کو پولیس افسر یا جرائم کی تحقیقات کرنے والا تفتیشی افسر ظاہر کرتے ہیں۔ جعلساز مبینہ طور پر شہریوں پر پولیس کا رعب ڈال کر انہیں خوف اور جلد بازی میں مبتلا کرتے ہیں اور بعد ازاں ذاتی یا مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پولیس کے مطابق فراڈ کرنے والے بعض اوقات دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ لندن کے ہولبورن پولیس اسٹیشن یا برکسہیم سے فون کررہے ہیں۔ بعض صورتوں میں وہ ان مقامات کے نام بھی غلط انداز میں ادا کرتے ہیں۔
جعلساز شہریوں سے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے کسی رشتہ دار یا دوست کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ان کی ذاتی معلومات کسی مجرمانہ تحقیقات سے منسلک پائی گئی ہیں یا ان کے نام پر جعلی دستاویزات، حتیٰ کہ پاسپورٹ بھی برآمد ہوئے ہیں۔
کچھ واقعات میں شہریوں کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے بینک کھاتے یا کارڈ کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا ہے، جبکہ بعض جعلساز یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ کسی بینک ملازم کے خلاف تحقیقات ہورہی ہیں اور اس سلسلے میں شہری کی مدد درکار ہے۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو پولیس افسر ظاہر کرکے بینک کھاتے کی تفصیلات، خفیہ شناختی نمبر، پاس ورڈ یا حفاظتی کوڈ طلب کرے تو شہری فوراً محتاط ہوجائیں۔ اسی طرح نقد رقم نکلوانے، بینک کارڈ یا قیمتی اشیا کسی قاصد یا دوسرے شخص کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی فراڈ کی واضح علامت ہوسکتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حقیقی پولیس افسر اچانک فون کرکے شہری سے بینک کی معلومات، خفیہ شناختی نمبر، پاس ورڈ یا رقم منتقل یا نکلوانے کا مطالبہ نہیں کرتے۔
اگر کوئی حقیقی پولیس افسر کسی شہری کے گھر جائے تو وہ اپنی شناخت ظاہر کرے گا اور اپنا پولیس شناختی کارڈ دکھائے گا۔ شہری کو اپنی شناخت کی تصدیق کرنے کا موقع دیا جائے گا اور حقیقی افسر اس تصدیق کے مکمل ہونے تک انتظار کرے گا۔
پولیس نے ایک اور اہم فراڈ سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلساز بعض اوقات شہری کو فون بند کرکے شناخت کی تصدیق کے لیے ہنگامی نمبر 999 پر دوبارہ فون کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تاہم بعض صورتوں میں جعلساز فون لائن کھلی رکھتے ہیں، جس کے باعث شہری کے دوبارہ نمبر ملانے کے باوجود رابطہ انہی افراد سے قائم رہ سکتا ہے۔
پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ ایسے فون آنے کی صورت میں کسی دباؤ میں آکر ذاتی یا مالی معلومات فراہم نہ کریں، رقم منتقل نہ کریں اور کال کرنے والے کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں۔
حکام کے مطابق پولیس افسر بن کر فراڈ کرنے کا یہ طریقہ مڈلینڈز سمیت برطانیہ کے مختلف علاقوں میں سامنے آرہا ہے، اس لیے شہریوں کو خاص طور پر بزرگ افراد اور اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی اس فراڈ سے آگاہ کرنا چاہیے۔
