والسال: برطانیہ کے علاقے والسال میں جنگل سے ملنے والے ایک نامعلوم شخص کی لاش کی شناخت تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود نہ ہوسکی، جس کے بعد اس شخص کی شناخت کا معمہ بدستور برقرار ہے۔
مقامی علاقے دی ڈیلو میں گزشتہ سال 19 نومبر کو جنگلاتی علاقے سے ایک شخص کی لاش ملی تھی۔ اس کی عمر تقریباً 40 سال بتائی گئی، تاہم پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے وسیع پیمانے پر تحقیقات کے باوجود اس کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی۔
نامعلوم شخص کے جسم پر مخصوص قبائلی طرز کے ٹیٹو بھی موجود تھے۔ اس کے بائیں کندھے اور بائیں بازو کے اوپری بیرونی حصے پر بنے یہ نمایاں ٹیٹو اس کی شناخت میں مددگار ثابت ہوسکتے تھے، تاہم اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
18 اگست کو بلیک کنٹری کورونر عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران موت کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔ تفتیشی کارروائی کے ریکارڈ کے مطابق طبی معائنے اور زہریلے مادوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ شخص کی موت ڈلٹیزم اور سائیکلیزین کے زہریلے اثرات کے باعث ہوئی۔
علاقائی کورونر جو لیز کی جانب سے دستخط شدہ ریکارڈ میں نامعلوم شخص کو سفید فام مرد قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کی عمر تقریباً 40 سال تھی اور اسے والسال کے علاقے دی ڈیلو کے جنگلات میں مردہ پایا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران اس شخص کے جسم پر موجود مخصوص ٹیٹو کو بھی شناخت کے لیے اہم علامت قرار دیا گیا، تاہم وسیع پیمانے پر کی جانے والی تلاش اور معلومات جمع کرنے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی حتمی شناخت سامنے نہیں آسکی۔
لاش کے پوسٹ مارٹم اور زہریلے مادوں کے تجزیے کے بعد موت کی وجہ بھی واضح ہوگئی، لیکن متوفی کے خاندان یا قریبی رشتہ داروں تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔
متعلقہ حکام نے نامعلوم شخص کا ڈی این اے ریکارڈ محفوظ کرلیا ہے تاکہ مستقبل میں اگر کوئی ممکنہ رشتہ دار سامنے آئے تو اس نمونے کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جاسکے۔
حکام کی جانب سے اب بھی ایسے افراد سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی جارہی ہے جو اس شخص کو جانتے ہوں، اس کے مخصوص ٹیٹو سے واقف ہوں یا گزشتہ سال نومبر سے قبل کسی ایسے شخص کے لاپتا ہونے کے بارے میں معلومات رکھتے ہوں۔
نامعلوم شخص کی شناخت نہ ہونے کے باعث اس کی موت سے جڑا یہ معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا۔
