تکبیر نیوز (کارڈف): ویلز میں مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال اور زیادتی سے متعلق کئی دہائیوں پرانے کیس میں 6 افراد نے کارڈف کراؤن کورٹ میں صحتِ جرم سے انکار کردیا، مقدمے میں مجموعی طور پر 9 افراد نامزد ہیں جبکہ کیس کی باقاعدہ سماعت 2028 میں متوقع ہے۔
یہ مقدمہ ساؤتھ ویلز میں 1980 اور 1990 کی دہائیوں کے دوران مبینہ بچوں کے استحصال سے متعلق گوینٹ پولیس کی تحقیقات کا حصہ ہے، جسے آپریشن اوک کا نام دیا گیا ہے۔
گوینٹ پولیس نے جولائی میں اس کیس کے سلسلے میں 54 سے 76 سال تک کی عمر کے 9 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ تمام ملزمان برطانوی شہری ہیں اور جمعہ 21 اگست کو کارڈف کراؤن کورٹ میں پیش ہوئے۔
برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 58 سالہ شفق محمد نے اپنے خلاف عائد 11 الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کیا، جن میں زیادتی کے 6 الزامات بھی شامل ہیں۔
نیوپورٹ سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ سید محمد احسن تقوی نے زیادتی کے 4 الزامات سے انکار کیا۔
ایڈنبرا کے رہائشی 54 سالہ محمد شیخ عبدالحانن پر زیادتی، غیر اخلاقی حملے، زیادتی میں معاونت اور زیادتی کی سازش سمیت 7 الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے تمام الزامات سے انکار کیا۔
اسکاٹ لینڈ کے علاقے ڈنّون سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ کیون لارنس نے زیادتی کی سازش اور ایک خاتون کو جسم فروشی پر مجبور کرنے سے متعلق دو الزامات سے انکار کیا۔
شمالی لندن کے ٹوٹنہم سے تعلق رکھنے والے 58 سالہ امین الرحمان چودھری نے زیادتی کے ایک الزام کو مسترد کردیا، جبکہ سوانزی کے 57 سالہ مراد علی نے 16 سال سے کم عمر لڑکی سے زیادتی کے دو الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کیا۔
نیوپورٹ سے تعلق رکھنے والے 76 سالہ محمد رمضان اور 73 سالہ شیخ محمد طاہر اللہ جبکہ لنکا شائر سے تعلق رکھنے والے 58 سالہ شکیل بابر بھی عدالت میں پیش ہوئے، تاہم ان تینوں نے ابھی الزامات پر اپنا مؤقف یا اقرارِ جرم پیش نہیں کیا۔ ان تینوں پر مجموعی طور پر 13 جرائم کے الزامات ہیں، جن میں زیادتی کے الزامات بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق نووں ملزمان کو مشروط ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔
عدالت نے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے لیے 17 جنوری 2028 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ توقع ہے کہ مقدمے کی کارروائی تقریباً 16 سے 20 ہفتے جاری رہے گی۔
گوینٹ پولیس کے ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ اینڈریو ٹک نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ پولیس اس کیس کے متاثرین کو ماہر اداروں کے تعاون سے مسلسل مدد فراہم کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تحقیقات سے مقامی کمیونٹی میں تشویش پیدا ہونا فطری ہے، تاہم متاثرین کے مفاد اور مقدمے کی قانونی کارروائی کی شفافیت کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسی کوئی معلومات شیئر نہ کی جائیں جو عدالتی کارروائی کو متاثر کرسکیں۔
پولیس نے ایسے تمام افراد سے بھی اپیل کی ہے جنہوں نے ماضی میں کسی قسم کے بچوں کے جنسی استحصال کا سامنا کیا ہو یا انہیں خدشہ ہو کہ کوئی بچہ اس طرح کے حالات سے گزر رہا ہے، وہ پولیس سے رابطہ کریں۔
گوینٹ پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں سے متعلق زیادتی کی ہر شکایت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، تمام الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی اور متاثرین کو ضروری مدد اور معاونت تک رسائی فراہم کی جائے گی۔
مقدمے میں نامزد افراد پر عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور تمام ملزمان کو مقدمے کے حتمی فیصلے تک قانون کے مطابق بے قصور تصور کیا جائے گا۔
