تکبیر نیوز (شورہیم): برطانیہ کے علاقے شورہیم میں انتہائی افسوسناک سانحے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد سمندر میں پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے، پولیس نے ابتدائی تحقیقات اور سی سی ٹی وی جائزے کے بعد واقعے کو ایک المناک حادثہ قرار دیا ہے اور کسی تیسرے فریق کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
یہ افسوسناک واقعہ منگل 18 اگست کو شورہیم فورٹ کے قریب پیش آیا، جہاں کوسٹ گارڈ، آر این ایل آئی، ساؤتھ ایسٹ کوسٹ ایمبولینس سروس اور پولیس سمیت ہنگامی امدادی اداروں کی بڑی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق خاندان لندن میں اپنے گھر سے شورہیم کی سیر کے لیے آیا تھا۔ اہل خانہ منگل کی دوپہر تقریباً 2 بجے شورہیم فورٹ کے قریب ساحل سے پانی میں اترے، تاہم کچھ دیر بعد وہ مشکل میں پھنس گئے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کردی گئی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج اور ابتدائی عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات کی موجودہ سمت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک افسوسناک حادثہ تھا اور اس میں کسی تیسرے شخص کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
پولیس نے تاہم واضح کیا ہے کہ تحقیقات باضابطہ طور پر بند نہیں کی گئیں اور مزید شواہد اور معلومات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ واقعے سے متعلق مکمل فائل تیار کرکے ہز میجسٹی کے کورونر کے سامنے پیش کی جائے گی، جہاں بعد ازاں موت کی وجوہات اور حالات جاننے کے لیے انکوائری کی جائے گی۔
سسیکس پولیس کے چیف سپرنٹنڈنٹ جیمز کولِس نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی دل دہلا دینے والی پیش رفت ہے جس کا خدشہ سانحے کے بعد سے موجود تھا۔
انہوں نے جاں بحق افراد حسن، زینا، سارا اور سجا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس نقصان سے متاثرہ خاندان کی تکلیف کا تصور بھی انتہائی مشکل ہے۔
چیف سپرنٹنڈنٹ جیمز کولِس کے مطابق اس سانحے کے اثرات صرف متاثرہ خاندان تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے ملک میں لوگوں نے اس افسوسناک واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے، جبکہ شورہیم کی مقامی کمیونٹی، امدادی اداروں کے اہلکار اور اس واقعے سے وابستہ تمام افراد بھی طویل عرصے تک اس سانحے کے اثرات محسوس کرتے رہیں گے۔
سسیکس پولیس نے عوام کی جانب سے تعزیتی پیغامات اور ہمدردی کے اظہار پر بھی شکریہ ادا کیا اور متاثرہ خاندان اور ان کے قریبی عزیزوں سے اپیل کی کہ انہیں اس مشکل وقت میں نجی طور پر غم منانے کا موقع دیا جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام ضروری کارروائی مکمل کرکے معاملہ کورونر کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
