تکبیر نیوز (لیسٹر): لیسٹر میں مبینہ حملے کے بعد نوجوان کی ہلاکت نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی، پولیس نے واقعے کو قتل کے طور پر تفتیش شروع کردی جبکہ ایک 31 سالہ شخص اور 39 سالہ خاتون کو ڈکیتی اور قتل کی سازش کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 20 سال کی عمر کے ایک شخص کو پیر 17 اگست کی صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے ایک شہری نے ناربرو روڈ پر نول اسٹریٹ کے قریب پایا۔ وہ شدید اور جان لیوا نوعیت کی چوٹوں میں مبتلا تھا۔
زخمی شخص کو فوری طور پر ایسٹ مڈلینڈز ایمبولینس سروس کے ذریعے ناٹنگھم کے کوئینز میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کا علاج کیا، تاہم حالت تشویشناک رہی۔
لیسٹر شائر پولیس کو واقعے کی اطلاع بدھ کے روز متاثرہ شخص کے ایک اہل خانہ کی جانب سے دی گئی۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ اسپتال پہنچائے جانے سے قبل نوجوان پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شخص جمعرات کو اپنی چوٹوں کے نتیجے میں دم توڑ گیا، جس کے بعد معاملے کی نوعیت کو تبدیل کرتے ہوئے قتل کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔
واقعے کے سلسلے میں ایک 31 سالہ شخص اور 39 سالہ خاتون کو ڈکیتی اور قتل کی سازش کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں اور تفتیش کار واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایسٹ مڈلینڈز اسپیشل آپریشنز یونٹ سے وابستہ ڈیٹیکٹو انسپکٹر کیون ہیمز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جس شخص نے واقعہ دیکھا ہو یا اس علاقے سے گزرتے ہوئے کوئی اہم منظر دیکھا ہو وہ پولیس سے رابطہ کرے۔
پولیس خاص طور پر ایسے افراد سے معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے جو پیر کی صبح ساڑھے 6 بجے سے 7 بجے کے درمیان ناربرو روڈ کے علاقے میں موجود تھے۔ تفتیش کاروں نے ڈیش کیم، دروازے کی گھنٹی کے کیمرے یا دیگر نگرانی کے کیمروں میں محفوظ کسی بھی ریکارڈنگ کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر معمولی معلوم ہونے والی کوئی بھی معلومات یا ویڈیو تفتیش کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے اور اس سے واقعے سے پہلے پیش آنے والے حالات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سینٹرل لیسٹر کے نیبرہڈ پولیسنگ ایریا کے انسپکٹر ریان لڈلم نے مقامی کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں اضافی گشت کیا جارہا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں کسی قسم کی تشویش ہو تو موجود پولیس اہلکاروں سے رابطہ کریں۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ گرفتار کیے گئے دونوں افراد سے پوچھ گچھ بھی کی جارہی ہے۔
