تکبیر نیوز (برسٹل): برسٹل میں 23 سالہ یونیورسٹی طالب علم زیک کافلن نے اپنے 21 سالہ ہاؤس میٹ جیمی کولنز کے قتل کا جرم قبول کر لیا ہے، جسے استغاثہ نے ایک سوچی سمجھی اور بے رحمانہ کارروائی قرار دیا۔
برسٹل کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ کافلن نے فلٹن، ساؤتھ گلوسٹرشائر میں واقع مشترکہ گھر کے باغ میں جیمی کولنز کے واپس آنے کا انتظار کیا اور پھر اس پر متعدد بار چاقو سے حملہ کیا۔
استغاثہ کے مطابق جیمی کولنز کو تقریباً 30 بار چاقو مارا گیا اور حملے کے بعد کافلن اسے گلی میں زخمی حالت میں چھوڑ کر اس کی سائیکل پر وہاں سے نکل گیا۔
ملزم نے اپنا مؤقف تبدیل کر دیا
کافلن نے ابتدا میں قتل کے الزام سے انکار کیا تھا، تاہم 20 اکتوبر کو مقدمے کے دوران جج کے ایک قانونی فیصلے کے بعد اس نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے قتل کا جرم قبول کر لیا۔
مسٹر جسٹس لنڈن نے فیصلہ دیا کہ کافلن کی جانب سے کنٹرول کھو دینے کے باعث قتلِ غیر عمد کا جزوی دفاع جیوری کے سامنے غور کے لیے نہیں رکھا جا سکتا۔
اس کے بعد عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اب قتل کے الزام کو تسلیم کرتا ہے۔
حملے کے بعد شواہد چھپانے کی کوشش
استغاثہ کے مطابق واقعے کے بعد کافلن نے جیمی کولنز کی سائیکل قریبی ریٹیل پارک میں چھوڑ دی، کپڑے تبدیل کیے اور خون آلود کپڑے تھیلوں میں ڈال کر اینٹوں سے وزن دے کر ایک تالاب میں پھینک دیے۔
بعد ازاں وہ رات تقریباً 9 بجے مشترکہ گھر واپس آیا، پیزا اوون میں رکھا اور دوستوں کے ساتھ آن لائن کھیل کھیلتا رہا۔
تقریباً رات 2 بجے اس نے 999 پر کال کی اور دعویٰ کیا کہ اسے جیمی کولنز کی لاش گھر کے پچھلے باغ میں ملی ہے۔
سی سی ٹی وی اور موبائل فون سے تفتیش آگے بڑھی
پولیس کے مطابق حملہ گھر میں نصب سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہو گیا تھا، جبکہ کافلن نے ابتدائی طور پر خود یہ فوٹیج پولیس کو دکھائی اور اسے پہلے ایک گواہ سمجھا گیا۔
تاہم تفتیش کے دوران ملزم کا خون جیمی کولنز کی سائیکل سے ملا، جبکہ اس کے موبائل فون کے ریکارڈ اور سی سی ٹی وی میں دکھائی دینے والی نقل و حرکت میں بھی مماثلت سامنے آئی۔
کافلن کے ہاتھوں پر بھی چوٹیں تھیں اور اس نے بعض لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ درخت پر چڑھتے ہوئے گر گیا تھا۔
دونوں روبوٹکس کے طالب علم تھے
جیمی کولنز اور زیک کافلن دونوں یو ڈبلیو ای برسٹل میں روبوٹکس کے آخری سال کے طالب علم تھے اور ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔
جیمی کولنز اصل میں سوانزی سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے خاندان کے مطابق وہ اپنی ڈگری مکمل کر کے جلد گھر واپس آنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
خاندان نے انہیں ایک ذہین، نرم مزاج اور مہربان نوجوان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے روشن مستقبل تھا۔
سزا بدھ کو سنائی جائے گی
قتل کا جرم قبول کرنے کے بعد زیک کافلن کو بدھ کی صبح برسٹل کراؤن کورٹ میں سزا سنائی جائے گی۔
