تکبیر نیوز (اسٹافورڈشائر): اسٹافورڈشائر کے نوجوان قیدیوں کے ادارے سوِنفن ہال میں کام کرنے والی ایک خاتون ماہرِ نفسیات کو ایک قیدی سے نامناسب تعلق قائم کرنے، جیل میں ممنوعہ موبائل فون پہنچانے اور سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال کے جرائم میں قید کی سزا سنا دی گئی۔
32 سالہ امبر رینی گیل، جو برمنگھم کے علاقے گریٹ بار کی رہائشی ہیں، کو برمنگھم کراؤن کورٹ نے مجموعی طور پر 2 سال اور 4 ماہ قید کی سزا سنائی۔
2024 میں رویے پر شک پیدا ہوا
عدالت کو بتایا گیا کہ امبر گیل ایچ ایم پی وائی او آئی سوِنفن ہال میں بطور ماہرِ نفسیات کام کر رہی تھیں جب 2024 کے آخر میں ان کے رویے کے بارے میں خدشات سامنے آئے۔
اس کے بعد ویسٹ مڈلینڈز ریجنل آرگنائزڈ کرائم یونٹ اور جیل و پروبیشن سروس کے انسدادِ بدعنوانی یونٹ نے مشترکہ تحقیقات شروع کیں۔
قیدی سے سیکڑوں پیغامات کا انکشاف
تحقیقات کے دوران پولیس کو امبر گیل اور 24 سالہ قیدی رک کارلو ولیمز کے درمیان سیکڑوں پیغامات ملے۔
موبائل فون کے ریکارڈ سے دونوں کے درمیان قریبی اور نامناسب تعلق کا بھی انکشاف ہوا، جبکہ دونوں نے ایک دوسرے کو فحش نوعیت کی تصاویر بھی بھیجی تھیں۔
پولیس کے مطابق سنیپ چیٹ پر ملنے والے پیغامات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دونوں کے درمیان جیل کے احاطے میں جنسی نوعیت کا تعلق قائم ہوا تھا۔
جیل کے اندر ممنوعہ موبائل فون پہنچائے گئے
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ولیمز، امبر گیل کے ذریعے جیل کے اندر ممنوعہ اشیا پہنچانے کا انتظام کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق ولیمز ایک ایسے غیر قانونی موبائل فون کے ذریعے باہر موجود افراد سے رابطہ کرتا تھا جو امبر گیل نے جیل کے اندر پہنچایا تھا۔
اسی فون میں ایسی تصاویر بھی ملی تھیں جن میں متعدد ممنوعہ آلات کو پیک کرکے جیل کے اندر لے جانے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔
امبر گیل نے جرائم قبول کر لیے
امبر گیل نے عدالت میں:
- سرکاری عہدے میں بدعنوانی
- بغیر اجازت سرکاری معلومات تک رسائی
- جیل میں ممنوعہ اشیا پہنچانے کی سازش
کے جرائم قبول کیے۔
عدالت نے انہیں مجموعی طور پر 2 سال 4 ماہ قید کی سزا سنائی۔
قیدی کو بھی مزید 14 ماہ قید
24 سالہ رک کارلو ولیمز نے بھی:
- جیل میں ممنوعہ چیز پہنچانے کی سازش
- جیل میں غیر قانونی طور پر ممنوعہ چیز رکھنے
کے جرائم قبول کیے۔
عدالت نے اسے مزید 14 ماہ قید کی سزا سنائی، جو اس کی پہلے سے جاری سزا مکمل ہونے کے بعد شروع ہوگی۔
موبائل فون اور رقم ضبط کرنے کا حکم
عدالت نے امبر گیل اور رک کارلو ولیمز دونوں کو اپنے متعدد موبائل فونز اور نقد رقم ضبط کروانے کا بھی حکم دیا۔
دونوں پر عدالتی سرچارج بھی عائد کیا گیا۔
پولیس: عہدے کا فائدہ اٹھا کر کام کیا گیا
ریجنل آرگنائزڈ کرائم یونٹ کے ڈیٹیکٹو سپرنٹنڈنٹ راس جونز نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ اور منظم کارروائی تھی جس میں امبر گیل اور ولیمز کے درمیان طویل عرصے تک رابطہ رہا۔
ان کے مطابق امبر گیل نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیل کے اندر ممنوعہ موبائل فون پہنچائے اور قیدی سے نامناسب تعلق بھی قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ جیلوں میں بدعنوانی، ممنوعہ اشیا کی ترسیل اور عملے کے ناجائز رویے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
