(تکبیر نیوز—- برطانیہ، اسٹافورڈ شائر)
برطانیہ کے علاقے اسٹافورڈ شائر سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ خاتون نے اپنی غیر معمولی زندگی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک نایاب ذہنی کیفیت کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، جس کے تحت ان کے اندر 20 مختلف شخصیات موجود ہیں، اور اب یہ تمام شخصیات ان کے نومولود بیٹے کی پرورش میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ٹیڈی ٹوف نامی خاتون "ڈسوسی ایٹو آئیڈینٹیٹی ڈس آرڈر” نامی ذہنی کیفیت کا شکار ہیں، جسے ماضی میں "ملٹی پل پرسنالٹی ڈس آرڈر” بھی کہا جاتا تھا۔ اس کیفیت میں ایک ہی شخص کے اندر مختلف شناختیں یا شخصیات موجود ہو سکتی ہیں، جن کی اپنی یادداشتیں، اندازِ گفتگو اور رویے ہوتے ہیں۔
ٹیڈی کے مطابق بچپن میں پیش آنے والے تکلیف دہ واقعات کے نتیجے میں ان میں یہ کیفیت پیدا ہوئی، تاہم کئی برسوں تک انہیں احساس ہی نہیں تھا کہ ان کا تجربہ عام لوگوں سے مختلف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں وہ ایک شخصیت سے دوسری شخصیت میں بار بار منتقل ہو جاتی تھیں اور بعض اوقات انہیں گھنٹوں یا دنوں کے واقعات یاد نہیں رہتے تھے۔ ان کے مطابق زندگی کے کچھ سال ایسے بھی ہیں جن کی یادیں انہیں بہت کم ہیں۔
ٹیڈی نے کہا کہ ان کے سابق شوہر نے سب سے پہلے ان کی مختلف شخصیات کو محسوس کیا، کیونکہ وہ اچانک مختلف انداز میں بات کرنا شروع کر دیتی تھیں اور بعد میں اپنی گفتگو یا سرگرمیوں کو یاد نہیں رکھ پاتیں۔
2017 میں طبی معائنے کے بعد ان میں باقاعدہ طور پر ڈسوسی ایٹو آئیڈینٹیٹی ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک نایاب ذہنی کیفیت ہے جو شدید نفسیاتی صدمات کے بعد بعض افراد میں پیدا ہو سکتی ہے۔
ٹیڈی نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں انہیں شدید ذہنی مشکلات، ذہنی دباؤ، خوف، فریبِ نظر اور دیگر نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس کے باعث کئی مرتبہ انہیں خصوصی طبی نگہداشت فراہم کی گئی۔
رواں سال فروری میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس کے بعد ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان کی مختلف شخصیات ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرتی ہیں اور روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض شخصیات گھر کے کاموں میں مدد دیتی ہیں، کچھ بچے کو سلانے میں کردار ادا کرتی ہیں جبکہ دیگر روزمرہ امور کو سنبھالنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
ٹیڈی کے مطابق ماں بننے کے بعد ان کی ذہنی کیفیت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور وہ خود کو پہلے سے زیادہ مستحکم محسوس کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی کا مقصد اب اپنے بیٹے کی پرورش ہے اور یہی ذمہ داری انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈسوسی ایٹو آئیڈینٹیٹی ڈس آرڈر ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت ہے، تاہم مناسب علاج، خاندانی تعاون اور مسلسل طبی نگرانی کے ذریعے متاثرہ افراد معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔
