(تکبیر نیوز—- برطانیہ، مانچسٹر)
برطانیہ کے انتہائی زیرِ بحث مانچسٹر ایئرپورٹ واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں دو بھائیوں کو مسلح پولیس افسر پر حملے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے، جبکہ استغاثہ نے واضح کر دیا ہے کہ اس مقدمے میں تیسری مرتبہ مقدمہ چلانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔
21 سالہ محمد فہیر اماز اور 26 سالہ محمد عماد پر الزام تھا کہ انہوں نے مانچسٹر ایئرپورٹ پر پیش آنے والے ہنگامہ آرائی کے واقعے کے دوران مسلح پولیس افسر زیکری مارسڈن پر حملہ کیا تھا۔ دونوں بھائیوں نے الزام کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے اپنی جان بچانے کیلئے دفاعی کارروائی کی تھی۔
عدالت میں مقدمے کی دوبارہ سماعت کے دوران جیوری تقریباً 20 گھنٹے غور و خوض کے باوجود کسی متفقہ یا اکثریتی فیصلے تک نہ پہنچ سکی۔ اس کے بعد کراؤن پراسیکیوشن سروس نے اعلان کیا کہ وہ تیسری بار مقدمہ چلانے کی درخواست نہیں کرے گی۔
جج نیل فلیوٹ نے استغاثہ کی جانب سے مزید شواہد پیش نہ کیے جانے پر دونوں ملزمان کے حق میں بے گناہی کا فیصلہ ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔
یہ مقدمہ جولائی 2024 کے اس واقعے سے متعلق تھا جس کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو میں ایک مسلح پولیس افسر کو محمد فہیر اماز کے سر پر لات مارتے اور زمین پر گرے ہوئے شخص کے قریب نظر آتے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔
بعد ازاں منظر عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکاروں اور ملزمان کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی تھی، جس میں دونوں جانب سے طاقت کا استعمال کیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب ایئرپورٹ کے ٹرمینل ٹو میں ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ استغاثہ کے مطابق محمد فہیر اماز نے ایک شہری کو سر مارا تھا، جس کے بعد مسلح پولیس اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔
پولیس جب پارکنگ ایریا کے ادائیگی مرکز میں دونوں بھائیوں کو گرفتار کرنے پہنچی تو صورتحال کشیدہ ہو گئی اور جھڑپ شروع ہو گئی۔
استغاثہ کے مطابق جھڑپ کے دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں ایک خاتون پولیس افسر بھی شامل تھیں جن کی ناک ٹوٹ گئی تھی۔ ایک اور پولیس افسر کو بھی چوٹیں آئیں۔
پچھلی سماعت میں محمد فہیر اماز کو ایک شہری پر حملے، خاتون پولیس افسر پر تشدد اور ایک ایمرجنسی ورکر پر حملے کے الزامات میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ ان جرائم کی سزا سنانے کیلئے عدالت نے 26 جون کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔
دوسری جانب محمد عماد کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کو نہ صرف عدالت بلکہ سوشل میڈیا پر بھی مسلسل تنقید اور نفرت انگیز مہمات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔
ادھر گریٹر مانچسٹر پولیس کے سربراہ سر اسٹیفن واٹسن نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پولیس کو مقدمے کے مکمل نتیجے پر مایوسی ہوئی ہے، تاہم وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس افسران عوام کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور ان پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اس کیس کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ واقعے میں ملوث مسلح پولیس افسر زیکری مارسڈن کے خلاف آزاد ادارہ برائے پولیس شکایات کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ یہ تحقیقات اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا واقعے کے دوران پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال قانون اور قواعد کے مطابق تھا یا نہیں۔
تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ انہیں مزید شواہد موصول ہوئے ہیں اور مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے، جس کے بعد آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
مانچسٹر ایئرپورٹ کا یہ واقعہ گزشتہ دو برسوں کے دوران برطانیہ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث پولیس مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے پولیس کے اختیارات، طاقت کے استعمال اور عدالتی نظام پر وسیع عوامی بحث کو جنم دیا۔
