(تکبیر نیوز—- برطانیہ، بولٹن) برطانیہ کے شہر بولٹن میں زیرِ سماعت قتل کے مقدمے میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ مقتول اپنے مبینہ قاتل سے اس قدر خوفزدہ تھا کہ وہ مسلسل ڈرا سہما رہتا تھا۔
بولٹن کراؤن کورٹ میں جاری مقدمے کے دوران 36 سالہ ایشلے کروڈر پر 37 سالہ گراہم کاکس کے قتل کا الزام ہے، تاہم ملزم نے قتل اور متبادل طور پر غیر ارادی قتل سمیت تمام الزامات کی تردید کر دی ہے۔
عدالت میں بتایا گیا کہ مارچ 2024 میں گراہم کاکس کی لاش ملزم کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔
سماعت کے دوران پولیس کو دی گئی ایک ویڈیو گواہی عدالت میں پیش کی گئی جس میں مقتول کے سابق دوست جان ماہون نے دعویٰ کیا کہ گراہم کاکس ملزم ایشلے کروڈر سے "شدید خوفزدہ” تھا۔
جان ماہون کے مطابق اسپتال سے واپسی کے بعد مقتول کی حالت بدل چکی تھی اور وہ مسلسل خوف کے عالم میں رہتا تھا۔
گواہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اکثر مقتول کی تضحیک کرتا، اسے برے القابات سے پکارتا اور اس پر تشدد کرتا تھا۔
عدالت میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے گواہ نے کہا کہ ایک موقع پر گراہم کاکس باتھ روم سے نکل کر صوفے پر بیٹھا تو ملزم نے غصے میں آ کر اسے برا بھلا کہا، سینے پر لات ماری اور زمین پر گرا دیا۔
جان ماہون نے مزید بتایا کہ انہوں نے متعدد بار مقتول کو ملزم سے خوفزدہ دیکھا اور ایک موقع پر ملزم کو مقتول کے سر پر تھپڑ مارتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
استغاثہ کے مطابق قتل سے چند ہفتے قبل گراہم کاکس ایک امدادی مرکز پہنچا تھا جہاں اس نے الزام لگایا تھا کہ ملزم نے اسے تقریباً دو ہفتوں تک فلیٹ میں قید رکھا اور اس پر حملے بھی کیے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مقتول کا دعویٰ تھا کہ ملزم اس سے سرکاری مالی امداد کی رقم زبردستی لے لیتا تھا۔
دفاعی وکیل نے گواہ سے سوال کیا کہ آیا وہ پولیس سے بات کرنے کے بعد ملزم کے خلاف ہو گیا تھا، جس پر جان ماہون نے جواب دیا کہ وہ پہلے ہی ملزم کو "خطرناک اور بیمار ذہن کا مالک” سمجھتا تھا۔
مقدمے کی سماعت جاری ہے اور عدالت آئندہ دنوں میں مزید گواہوں کے بیانات سنے گی۔
