(تکبیر نیوز—- برطانیہ) انگلینڈ میں جاری شدید گرمی کی لہر جان لیوا ثابت ہونے لگی ہے، جہاں کھلے پانی میں نہانے کے دوران مزید دو نو عمر لڑکے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد حالیہ دنوں میں پانی سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کینٹ کے علاقے سوانسکوم میں ایک 15 سالہ لڑکے کی لاش تالاب سے برآمد ہوئی۔ ایمرجنسی سروسز کو بدھ کی سہ پہر ایک تیراک کے لاپتا ہونے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔
ایک دوسرے افسوسناک واقعے میں آکسفورڈ کے علاقے ڈوننگٹن برج کے قریب دریائے ٹیمز میں نہاتے ہوئے 14 سالہ لڑکا ڈوب گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے بعد ازاں اس کی لاش پانی سے نکال لی۔
ٹیمز ویلی پولیس کے مطابق واقعہ غیر واضح نوعیت کا ہے تاہم ابتدائی تحقیقات میں کسی مشتبہ پہلو کے شواہد نہیں ملے۔
حالیہ گرمی کی لہر کے دوران لنکن، ہیلی فیکس، روثرہم، واروکشائر، چیشائر، فارنبورو اور لنکاشائر سمیت مختلف علاقوں میں بھی پانی سے متعلق متعدد حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں کئی نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس کے علاوہ کارنوال میں ساٹھ سال کی عمر کے ایک شخص جبکہ ویلز میں ستر سالہ خاتون بھی کھلے پانی میں پیش آنے والے حادثات میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
برطانوی حکام نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرمی سے بچنے کیلئے جھیلوں، دریاؤں، تالابوں اور دیگر کھلے پانی میں نہانا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پانی کا درجہ حرارت، گہرائی اور اچانک تیز بہاؤ انسان کو چند لمحوں میں مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
ماہرین نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گرمی کی چھٹیوں اور گرم موسم کے دوران بچوں اور نوجوانوں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
