ہبل خلائی دوربین نے کائنات کے بعید ترین ستارے کا نظارہ کرلیا

32

گزشتہ تین دہائیوں سے کائنات کے متعلق ہماری معلومات میں اضافے اور خوبصورت ترین اجرامِ فلکی کا نظارہ کرانے کے بعد کائنات میں دور ترین ستارے کی ایک تصویر کھینچی ہے۔

اب جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرِ فلکیات نے ہبل خلائی دوربین کی مدد سے ایک ایسے ستارے کا عکس لیا ہے جو بارہ ارب نوے کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسے ماہرین نے بعید ترین ستارہ قرار دیا ہے۔ اسے WHL0137-LS کا تکنیکی نام دیا گیا ہے۔ تاہم اس کا سادہ نام ایرینڈل ہے جو قدیم انگریزی میں صبح کے ستارے یا ابھرتے ستارے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کائنات کی تشکیل کےابتائی ایک ارب برس تک یہ ستارہ روشنی بکھیر رہا تھا اور اس وقت کائنات نئی نئی بنی تھی اور اس کی عمر موجودہ کائنات کی عمر کے مقابلے میں صرف سات فیصد تھی۔

سال 2018 میں ہبل خلائی دوربین نے ایک دور ترین ستارہ دریافت کیا تھا جو نو ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود تھا لیکن اب نئی دریافت نے سارے ریکارڈ توڑدیئے ہیں۔ تاہم یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ اس ستارے کی دریافت سے ہم کائنات کی ابتدا کے متعلق بہت کچھ جان سکیں گے۔

مزید پڑھیں:  دھوکہ دہی کے الزام میں 42 ہزار ایپلی کیشنز بند
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.