تکبیر نیوز (ڈڈلی): ویسٹ مڈلینڈز میں تقریباً 28 سال تک لاپتا سمجھی جانے والی سات بچوں کی ماں پیٹریشیا لیشلی کے قتل کا اعتراف کرنے والے 66 سالہ ٹریور ڈنکلی کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
وولورہیمپٹن کراؤن کورٹ نے ڈنکلی کو حکم دیا کہ وہ پیرول کیلئے اہل ہونے سے پہلے کم از کم 10 سال 10 ماہ قید کاٹے گا۔ اس نے قتل کے ساتھ ساتھ لاش کی قانونی تدفین روکنے کا جرم بھی قبول کیا تھا۔
ستمبر 1998 میں گھر کے اندر قتل
پیٹریشیا لیشلی کی عمر 33 سال تھی اور وہ ڈنکلی کے ساتھ ہال اسٹریٹ، ڈڈلی میں رہتی تھیں۔
پولیس کے مطابق ستمبر 1998 میں ڈنکلی نے بستر پر موجود پیٹریشیا پر مکے مار کر شدید حملہ کیا، جس سے ان کی موت ہوگئی۔
قتل کے وقت ڈنکلی کی عمر 38 سال تھی۔
بچے کو سوشل سروسز کے حوالے کردیا
قتل کے بعد ڈنکلی نے پیٹریشیا کے شیر خوار بچے کو سوشل سروسز کے حوالے کیا اور دعویٰ کیا کہ پیٹریشیا گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں اور بچے کو چھوڑ گئی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس جھوٹ کے نتیجے میں پیٹریشیا کے بچے برسوں تک یہ سمجھتے رہے کہ ان کی ماں نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔
لاش تہہ خانے میں چھپائی
پولیس کے مطابق ڈنکلی نے پیٹریشیا کی لاش کو بستر کی چادروں میں لپیٹا اور بعد میں گھر کے تہہ خانے میں منتقل کردیا۔
وہاں لاش کئی ماہ، اور عدالتی بیان کے مطابق تقریباً ایک سال تک موجود رہی۔
بعد میں اس نے باقیات کو کئی ہفتوں کے دوران گھریلو کچرے کے ساتھ ٹھکانے لگا دیا۔ اسی وجہ سے پیٹریشیا کی باقیات آج تک برآمد نہیں ہو سکیں۔
پولیس نے تہہ خانے کی کھدائی بھی کی
ڈنکلی کے اعتراف کے بعد پولیس نے اس کے سابق گھر کے تہہ خانے میں بڑے پیمانے پر تلاشی اور کھدائی کی۔
چونکہ مکان میں کئی مرتبہ تعمیر و مرمت ہو چکی تھی، اس لیے ماہر ٹیموں کو موجودہ فرش کے نیچے اصل تہہ خانے تک پہنچنے کیلئے کھدائی کرنا پڑی۔
تقریباً 30 سال بعد اچانک اعتراف
پیٹریشیا کی گمشدگی کو کئی دہائیوں تک لاپتا شخص کا کیس سمجھ کر دیکھا جاتا رہا۔
جولائی 2026 میں جب ویسٹ مڈلینڈز پولیس کی لاپتا افراد کی ٹیم نے ڈنکلی سے رابطہ کیا تو اس نے اچانک قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پیٹریشیا کو قتل کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ڈنکلی نے بعد میں بتایا کہ اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ تفتیش کار اس تک پہنچ رہے ہیں۔
ستمبر میں جرم قبول کیا
ڈنکلی نے 11 ستمبر 2026 کو وولورہیمپٹن کراؤن کورٹ میں:
- پیٹریشیا لیشلی کے قتل
- لاش کی قانونی اور باعزت تدفین روکنے
کے جرائم قبول کیے۔
عمر قید کی سزا
6 نومبر کو عدالت نے ڈنکلی کو قتل پر عمر قید سنائی۔
عدالتی ریکارڈ اور متعدد رپورٹس کے مطابق کم از کم مدت 130 ماہ یعنی 10 سال 10 ماہ مقرر کی گئی۔ لاش کی قانونی تدفین روکنے کے جرم پر دو سال قید بھی سنائی گئی، جو ساتھ ساتھ چلے گی۔
خاندان کو تدفین کا موقع بھی نہ مل سکا
تحقیقات کی سربراہی کرنے والی ڈیٹیکٹو انسپکٹر مشل کورڈیل نے کہا کہ ڈنکلی نے نہ صرف تقریباً تین دہائیوں تک حقیقت چھپائی بلکہ باقیات ٹھکانے لگا کر خاندان سے اپنی ماں کو دفنانے کا حق بھی چھین لیا۔
پولیس کے مطابق پیٹریشیا کی باقیات ملنے کا امکان اب انتہائی کم ہے۔
