تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ میں زیادتی کے مقدمات کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی پر غور شروع ہوگیا ہے، جس کے تحت ججوں کو ہر ریپ ٹرائل میں جیوری کو متاثرین کے رویے سے متعلق عام مگر غلط تصورات سے خبردار کرنا لازمی ہو سکتا ہے۔
یہ مطالبہ معروف کامیڈین رسل برانڈ کے مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے، جنہیں ساؤتھ ورک کراؤن کورٹ میں ایک خاتون سے زیادتی اور تین دیگر خواتین سے جنسی حملوں کے جرائم میں قصوروار قرار دیا گیا۔
برانڈ کو دو دیگر زیادتی کے الزامات اور ایک اقدامِ غیر شائستہ حملہ کے الزام سے بری بھی کیا گیا۔
“متاثرہ نے چیخ کیوں نہیں ماری؟” جیسے سوالات پر اعتراض
رسل برانڈ کے مقدمے کے دوران ان کے وکیل ایان ونٹر کے سی نے جیوری کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ شکایت کنندگان نے مبینہ واقعات کے دوران نہ مزاحمت کی، نہ چیخیں اور نہ فوراً وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
اس اندازِ دفاع پر شدید تنقید ہوئی اور متاثرین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں نے کہا کہ اس طرح کے سوالات پرانے اور گمراہ کن تصورات کو تقویت دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنسی حملے کے دوران ہر شخص کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔
کچھ لوگ مزاحمت کرتے ہیں، کچھ فرار کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بعض خوف یا صدمے کے باعث بالکل منجمد ہو جاتے ہیں اور بول یا حرکت بھی نہیں پاتے۔
متاثرین کی کمشنر کی قانونی ترمیم کی تجویز
متاثرین کی کمشنر کلیئر ویکس مین نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ Courts and Tribunals Bill میں ایک قانونی شق شامل کی جائے۔
اس کے تحت زیادتی کے ہر مقدمے میں جج پر لازم ہوگا کہ وہ جیوری کو واضح کرے کہ:
- متاثرہ کا چیخ نہ پانا جرم کو جھوٹا ثابت نہیں کرتا
- جسمانی مزاحمت نہ کرنا رضامندی نہیں
- فوری طور پر پولیس کو رپورٹ نہ کرنا الزام کو بے بنیاد نہیں بناتا
- صدمے کے بعد مختلف افراد مختلف ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں
ان کا کہنا ہے کہ انصاف شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، متاثرہ کے رویے کے بارے میں پرانے تصورات پر نہیں۔
موجودہ نظام میں کیا ہوتا ہے؟
اس وقت انگلینڈ اور ویلز میں ججوں کیلئے Crown Court Compendium میں رہنمائی موجود ہے کہ اگر مقدمے میں ایسے غلط تصورات سامنے آئیں تو جیوری کو مناسب ہدایات دی جا سکتی ہیں۔
تاہم یہ ہر مقدمے میں قانونی طور پر لازمی نہیں۔
کلیئر ویکس مین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ مختلف عدالتوں میں یہ رہنمائی مختلف انداز میں استعمال ہوتی ہے۔
نئی تجویز اس اختیار کو قانونی ذمہ داری میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
میٹ پولیس چیف کی حمایت
میٹروپولیٹن پولیس کمشنر سر مارک راؤلی نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسل برانڈ کے مقدمے میں بعض دفاعی دلائل “متاثرہ کو موردِ الزام ٹھہرانے” کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔
ان کے مطابق پولیس اور عدالتی نظام کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جنسی تشدد کے بعد ہر متاثرہ ایک جیسا ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔
وزیراعظم اینڈی برنہم بھی تبدیلی کیلئے تیار
وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ زیادتی کے مقدمات کے طریقۂ کار میں ممکنہ قانونی تبدیلیوں کو مسترد نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں ایسا ماحول نہیں ہونا چاہیے جس میں متاثرہ خاتون کو محسوس ہو کہ گویا مقدمہ ملزم کے بجائے اس کے خلاف چل رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سر مارک راؤلی اور متاثرین کی کمشنر کی تجاویز کو سنجیدگی سے دیکھے گی۔
وزارتِ انصاف کا ردعمل
وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ وہ کلیئر ویکس مین کی تجویز پر غور کرے گی۔
حکومت پہلے ہی Courts and Tribunals Bill کے ذریعے جنسی جرائم کے مقدمات میں متاثرین کی سابقہ جنسی زندگی اور ماضی کے الزامات کو غیر ضروری طور پر دفاع میں استعمال کرنے پر سخت پابندیاں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ زیادتی سے متعلق غلط تصورات کی عدالتوں میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
ابھی قانون تبدیل نہیں ہوا
اہم بات یہ ہے کہ یہ نئی پابندی ابھی قانون نہیں بنی۔
یہ ایک مجوزہ ترمیم ہے جسے پارلیمنٹ میں زیرِ غور Courts and Tribunals Bill میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ہاؤس آف لارڈز میں بل کی تفصیلی جانچ 10 نومبر سے شروع ہونی ہے، جہاں مختلف ترامیم زیرِ غور آئیں گی۔
رسل برانڈ کو سزا سنانا باقی
رسل برانڈ کو ایک زیادتی اور تین جنسی حملوں کے جرائم میں قصوروار قرار دیا جا چکا ہے۔
عدالت نے انہیں حراست میں بھیج دیا ہے اور جج نے کہا ہے کہ انہیں قابلِ ذکر مدت کی قید متوقع ہے۔
ان کی باقاعدہ سزا سنائے جانے کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔
میٹ پولیس دو مزید زیادتی کے الزامات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
