تکبیر نیوز (ایڈنبرا): اسکاٹ لینڈ کی ایک جیل میں کووڈ کے دوران 34 سالہ قیدی کی موت کے معاملے میں جیل چلانے والی کمپنی اور NHS لوتھین نے مجرمانہ الزامات قبول کر لیے ہیں۔
کیلم انگلس اکتوبر 2021 میں ویسٹ لوتھین کی HMP Addiewell جیل میں قید تھے، جہاں ان کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
وہ دمے کے مریض تھے اور ویکسین نہیں لگوائی تھی۔
12 دن بعد سیل میں مردہ پائے گئے
کیلم نے 12 اکتوبر 2021 کو کووڈ کی علامات کے بعد تنہائی اختیار کی۔
ان کی طبیعت مسلسل خراب ہوتی گئی اور 24 اکتوبر کو وہ اپنے سیل میں مردہ پائے گئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اس عرصے میں انہیں کسی نرس نے نہیں دیکھا۔
سانس لینے میں شدید دشواری
خاندان اور عدالت میں پیش شواہد کے مطابق کیلم نے اپنے اہل خانہ کو بتایا تھا کہ:
- انہیں شدید سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے
- وہ خون کھانس رہے ہیں
- چند قدم چلنے سے بھی سانس پھول جاتا ہے
آخری دنوں میں انہوں نے سیل کے انٹرکام کے ذریعے بار بار طبی مدد مانگی۔
بار بار مدد مانگنے کے باوجود نرس نہ آئی
عدالت کو بتایا گیا کہ کیلم نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں متعدد بار طبی امداد کی درخواست کی۔
ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے پیراسیٹامول کیلئے بھی بار بار درخواستیں کیں، لیکن ادویات دینے اور طبی نگرانی کا ریکارڈ ناقص تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر انہیں مناسب طبی علاج مل جاتا تو ان کے زندہ بچنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ سکتے تھے۔
سوڈیکسو اور NHS لوتھین کا اعتراف
سوڈیکسو لمیٹڈ، جو اس وقت جیل چلا رہی تھی، نے تسلیم کیا کہ کیلم کے کووڈ مثبت آنے کے بعد ان کی مناسب نگرانی نہیں کی گئی۔
لوتھین ہیلتھ بورڈ نے بھی تسلیم کیا کہ ان کیلئے مناسب طبی نگہداشت کا منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا۔
دونوں اداروں نے صحت اور سلامتی کے قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے مجرمانہ الزامات قبول کیے۔
جج: موت خوفناک حالات میں ہوئی
شیرف جولیس کومورووسکی نے عدالت میں موجود خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ کیلم کی موت انتہائی افسوسناک اور خوفناک حالات میں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کیلئے یہ موت بے معنی اور ناقابلِ فہم محسوس ہوتی ہوگی۔
خاندان: انسان سے بھی بدتر سلوک ہوا
خاندان کے وکیل عامر انور نے سماعت کے بعد کہا کہ کیلم کے اہل خانہ کا ماننا ہے کہ ان کے ساتھ “جانور سے بھی بدتر سلوک” کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کیلم خوفزدہ اور تنہا اپنے سیل میں مدد کیلئے پکارتے رہے، لیکن انہیں مطلوبہ طبی امداد نہ مل سکی۔
ان کے خاندان کے مطابق وہ صرف ایک قیدی نہیں بلکہ بیٹا، بھائی اور خاندان کا محبوب فرد تھے۔
والدہ کا دردناک بیان
کیلم کی والدہ جینیفر انگلس، جو سابق نرس ہیں، نے کہا کہ یہ سوچ کر انہیں ہمیشہ اذیت رہے گی کہ ان کا بیٹا اپنے آخری 12 دن کس حالت میں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو ہمدردی، عزت اور مناسب طبی علاج ملنا چاہیے تھا۔
NHS لوتھین کی غیر مشروط معافی
NHS لوتھین کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹریسی گلیز نے خاندان سے غیر مشروط معافی مانگی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا اور قیدیوں کی حفاظت اور طبی نگہداشت بہتر بنانے کیلئے نئے اقدامات متعارف کروائے گئے۔
سوڈیکسو کا بیان
سوڈیکسو نے بھی کیلم کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
کمپنی نے کہا کہ چونکہ قانونی کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے وہ مزید تفصیلی تبصرہ نہیں کرے گی۔
برطانیہ میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ
خاندان کے وکیل کے مطابق یہ برطانیہ میں کووڈ سے متعلق کسی موت پر پہلی کامیاب فوجداری کارروائی ہے۔
کراؤن آفس نے وبا کے دوران کووڈ سے متعلق ہزاروں اموات کا جائزہ لیا تھا۔
مقدمہ دسمبر میں دوبارہ
مقدمہ دسمبر 2026 میں دوبارہ ایڈنبرا شیرف کورٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
کیلم کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ایک الگ Fatal Accident Inquiry میں بھی ذمہ داری کے تعین کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
