تکبیر نیوز (لندن): برطانوی وزیراعظم کے قومی سلامتی مشیر جوناتھن پاول کی اہلیہ اور مصنفہ سارہ ہیلم کی فلسطین ایکشن سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں میٹروپولیٹن پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
پولیس نے سارہ ہیلم کی پوسٹ کا ماہر افسران سے جائزہ کرانے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ یہ مواد فوجداری کارروائی کی قانونی حد پوری نہیں کرتا۔
یہ فیصلہ اس ابتدائی جائزے کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں پولیس یہ دیکھ رہی تھی کہ آیا پوسٹ کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کوئی جرم سرزد ہوا ہے یا نہیں۔
سارہ ہیلم نے کیا لکھا تھا؟
سارہ ہیلم نے جمعرات کو ایکس پر آئرش مصنفہ سیلی رونی سے متعلق گفتگو کے دوران لکھا تھا:
“خدا ہم مصنفوں کی مدد کرے جو فلسطین اور فلسطین ایکشن کی حمایت کرتے ہیں۔”
یہ پوسٹ اس لیے فوری توجہ کا مرکز بن گئی کیونکہ سارہ ہیلم کے شوہر جوناتھن پاول برطانوی حکومت میں قومی سلامتی کے انتہائی حساس عہدے پر فائز ہیں۔
پولیس: فوجداری حد پوری نہیں ہوئی
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق پوسٹ کا جائزہ خصوصی افسران نے لیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے میں مزید کارروائی کا قانونی معیار پورا نہیں ہوتا۔
یعنی سارہ ہیلم کے خلاف نہ گرفتاری کی گئی اور نہ ہی کوئی الزام عائد کیا جائے گا۔
فلسطین ایکشن برطانیہ میں کالعدم تنظیم ہے اور پولیس نے اس سے قبل واضح کیا ہے کہ کالعدم تنظیم کی حمایت کا اظہار بعض حالات میں انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت جرم بن سکتا ہے۔
فلسطین ایکشن پر پابندی
فلسطین ایکشن کو جولائی 2025 میں برطانیہ میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق کالعدم تنظیم کی رکنیت، اس کی حمایت کا اظہار یا بعض صورتوں میں اس سے متعلق تشہیری سرگرمی انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت قابلِ گرفت ہو سکتی ہے۔
پولیس نے حالیہ مہینوں میں بھی واضح کیا ہے کہ فلسطین ایکشن کی حمایت کے اظہار پر کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم ہر پوسٹ یا بیان کا قانونی جائزہ اس کے مخصوص الفاظ اور حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
سیلی رونی کے معاملے سے شروع ہوا تنازع
سارہ ہیلم کی پوسٹ آئرش مصنفہ سیلی رونی سے متعلق بحث کے دوران سامنے آئی تھی۔
رونی نے فلسطین ایکشن کی مالی حمایت کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد برطانیہ میں ان کی کتابوں کی تقسیم اور اشاعت سے متعلق قانونی خدشات سامنے آئے۔
اسی بحث کے دوران سارہ ہیلم نے اپنی پوسٹ کی تھی، جس کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا۔
حکومت پہلے ہی خود کو بیان سے الگ کر چکی تھی
ڈاؤننگ اسٹریٹ نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ سارہ ہیلم کے خیالات ان کے ذاتی خیالات ہیں اور وہ حکومت کی نمائندگی نہیں کرتیں۔
ان کے شوہر جوناتھن پاول وزیراعظم کے قومی سلامتی مشیر ہیں، تاہم حکومت نے ان کی اہلیہ کے بیان کو سرکاری پالیسی سے جوڑنے سے انکار کیا تھا۔
معاملہ ختم
پولیس کے تازہ فیصلے کے بعد سارہ ہیلم کے خلاف اس پوسٹ کے حوالے سے مزید فوجداری کارروائی نہیں ہوگی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس قانونی بحث کو نمایاں کرتا ہے کہ کالعدم تنظیم سے متعلق کسی بیان میں کہاں سیاسی اظہار ختم ہوتا ہے اور کہاں فوجداری قانون لاگو ہونے کی حد شروع ہوتی ہے۔
