تکبیر نیوز (برطانیہ): رائل میل نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ سالگرہ کارڈ، خط یا عام لفافے میں سکے ڈال کر نہ بھیجیں کیونکہ خودکار ڈاک چھانٹنے والی مشینیں لفافے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جس سے سکے راستے میں گرنے یا رقم ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
رائل میل کے مطابق ڈاک کے خطوط تیز رفتار خودکار مشینوں سے گزرتے ہیں، جو بڑی تعداد میں لفافے اور خطوط چھانٹنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
اگر کسی عام لفافے میں سکے رکھے ہوں تو وہ لفافے کو پھاڑ سکتے ہیں یا مشین میں پھنسا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈاک کی ترسیل میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔
نقد رقم بھیجنے میں خصوصی احتیاط
رائل میل کا کہنا ہے کہ نقد رقم اور دیگر قیمتی اشیا بھیجتے وقت انہیں اچھی طرح پیک کیا جائے اور باہر سے ایسا کوئی نشان نہ ہو جس سے معلوم ہو کہ اندر رقم موجود ہے۔
صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ قیمتی اشیا کے لیے عام ڈاک کے بجائے ایسی سروس استعمال کی جائے جس میں ترسیل کی نگرانی، وصولی کے وقت دستخط اور نقصان کی صورت میں ممکنہ معاوضہ شامل ہو۔
اسپیشل ڈلیوری گارنٹیڈ استعمال کرنے کا مشورہ
پوسٹ آفس قیمتی اشیا بھیجنے والوں کو رائل میل اسپیشل ڈلیوری گارنٹیڈ جیسی سروس استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔
اس سروس میں عام طور پر:
- پارسل یا خط کی نگرانی
- وصولی کے وقت دستخط
- مقررہ شرائط کے تحت نقصان یا گمشدگی پر معاوضہ
جیسی سہولیات شامل ہوتی ہیں۔
سالگرہ اور شادی کے تحائف بھی احتیاط سے بھیجیں
رائل میل کا یہ مشورہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو سالگرہ، شادی یا کسی دوسرے موقع پر کارڈ کے اندر نقد رقم بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اگرچہ نوٹ کارڈ میں رکھنا آسان لگتا ہے، تاہم ڈاک کے عام نظام میں قیمتی رقم بھیجتے وقت محفوظ پیکنگ اور مناسب سروس کا انتخاب زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔
ہر منزل کے لیے قواعد مختلف ہوسکتے ہیں
رائل میل نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ رقم یا قیمتی اشیا بھیجنے سے پہلے متعلقہ سروس کی تازہ شرائط ضرور دیکھیں کیونکہ منزل اور بھیجی جانے والی چیز کی نوعیت کے مطابق قواعد مختلف ہو سکتے ہیں۔
بیرونِ ملک پارسل پر بھی اہم یاددہانی
رائل میل نے بیرونِ ملک سے پارسل وصول کرنے والے صارفین کو یہ بھی یاد دہانی کرائی ہے کہ اگر کسٹمز یا اضافی فیس واجب ہو تو سرمئی “فیس ٹو پے” کارڈ کو نظر انداز نہ کریں۔
ایسے پارسل ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں تقریباً تین ہفتے تک روکے جا سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں واپس بھیجنے والے کو لوٹایا جا سکتا ہے۔
