تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں ایک شخص کو سر اور جسم پر سات مرتبہ چاقو مارنے والے 32 سالہ پناہ کے درخواست گزار بریئر حسن کو عدالت نے 4 سال 11 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
ڈڈلی کے ہیلئیر اسٹریٹ سے تعلق رکھنے والے حسن نے برمنگھم کراؤن کورٹ میں جان بوجھ کر شدید زخمی کرنے اور عوامی مقام پر چاقو رکھنے کے جرائم کا اعتراف کیا۔
واقعہ گزشتہ سال 17 مارچ کی دوپہر برمنگھم کے علاقے سوهو میں بیبنگٹن روڈ پر پیش آیا۔
سی سی ٹی وی میں حملہ ریکارڈ
عدالت کو بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حسن، اردلان علی اور ایک تیسرے شخص کو ایک ساتھ سڑک پر چلتے دیکھا گیا، جس کے بعد حسن اور علی کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا۔
استغاثہ کے مطابق حسن نے اچانک چاقو نکالا اور ایک جانب سڑک پر علی کو وار کرنا شروع کیے۔
بعد ازاں متاثرہ شخص سڑک عبور کرکے دوسری جانب گیا تو حسن نے اس کا تعاقب کیا اور وہاں بھی اسے مزید چاقو مارے۔
عدالت میں بتایا گیا کہ حملے کے دوران حسن نے متاثرہ شخص سے کہا کہ “مجھے تمہیں قتل کر دینا چاہیے۔”
اردلان علی کو کندھے اور کمر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر زخم آئے، جبکہ ان کے چہرے پر مستقل نشان بھی رہ گیا۔
جج: متاثرہ شخص خوش قسمت تھا کہ زندہ بچ گیا
سزا سناتے ہوئے جج رچرڈ بانڈ نے کہا کہ متاثرہ شخص ہر روز آئینہ دیکھتے وقت اس حملے کو یاد کرے گا۔
جج نے کہا کہ اگر چاقو کا وار جسم کے کسی اہم حصے، مثلاً دل یا بڑی خون کی نالی پر لگ جاتا، تو معاملہ قتل کے مقدمے تک جا سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص خوش قسمت تھا کہ حملے کے باوجود زندہ بچ گیا۔
جج کے مطابق حملہ مسلسل اور شدید نوعیت کا تھا کیونکہ حسن نے پہلے ایک جانب سڑک پر متعدد وار کیے اور پھر متاثرہ شخص کا پیچھا کرتے ہوئے دوسری جانب بھی حملہ جاری رکھا۔
پناہ کی درخواست ابھی زیرِ التوا
عدالت کو بتایا گیا کہ حسن 2023 میں برطانیہ آیا تھا اور اس نے پناہ کی درخواست دی تھی، جو اب بھی زیرِ التوا ہے۔
جج نے اپنی سزا سے متعلق ریمارکس متعلقہ امیگریشن ٹریبونل کو بھیجنے کا حکم دیا تاکہ حسن کی پناہ کی درخواست پر غور کرتے وقت عدالت کے سامنے ثابت ہونے والے جرائم کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔
دفاع کا مؤقف
دفاعی وکیل سائمن ولیمز نے عدالت کو بتایا کہ حسن نے اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور وہ اپنے رویے پر پشیمان ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ حسن کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
دفاع کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ حسن ایک نفسیاتی بیماری کا شکار رہا ہے، تاہم وکیل نے تسلیم کیا کہ اس بیماری نے اس حملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
