تکبیر نیوز (لیورپول): اسپین کے سیاحتی جزیرے ٹینیرف میں چھٹیاں گزارنے کے دوران اپنی گرل فرینڈ کو کاٹنے، مکے اور لاتیں مار کر زخمی کرنے والے 23 سالہ برطانوی نوجوان اوون ڈوڈ کو 680 دن قید کی سزا سنادی گئی۔
لیورپول کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ اوون ڈوڈ اور 22 سالہ لیٹیشیا ہورن دسمبر 2024 سے تعلق میں تھے، تاہم کچھ ہی عرصے بعد دونوں کے درمیان مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔
عدالت کے مطابق ٹینیرف جانے سے قبل لیٹیشیا نے اپنی والدہ سے کہا تھا کہ اسے اس سفر کے بارے میں برا احساس ہورہا ہے۔
نائٹ کلب میں اچانک گرل فرینڈ کو کاٹ لیا
عدالت کو بتایا گیا کہ ٹینیرف پہنچنے کے پہلے ہی روز دونوں نے مختلف شراب خانوں اور مقامات کا رخ کیا، جہاں شراب کے ساتھ منشیات بھی استعمال کی گئیں۔
بعد ازاں ایک نائٹ کلب میں ڈوڈ نے اچانک اپنی گرل فرینڈ کے گال پر دانت گاڑ دیے، جس سے وہ شدید پریشان ہوگئی اور گروپ کو وہاں سے نکلنا پڑا۔
اس کے ایک رشتہ دار نے رویے پر اعتراض کیا تو ڈوڈ نے بوتل توڑ کر اپنے رشتہ داروں کو اس سے زخمی کرنے کی دھمکی دی۔ اس نے بوتل اس وقت نیچے رکھی جب اس کی گرل فرینڈ اس کے ساتھ ہوٹل واپس جانے پر آمادہ ہوگئی۔
سڑک پر مکے مارے، گرنے کے بعد سر پر لاتیں
عدالت کو بتایا گیا کہ ہوٹل واپسی کے دوران ڈوڈ دوبارہ غصے میں آگیا اور لیٹیشیا کو دو سے تین مرتبہ مکے مارے۔
حملے کے نتیجے میں وہ زمین پر گر گئی اور اس کا سر سڑک کے کنارے سے ٹکرایا، تاہم ڈوڈ نے تشدد جاری رکھا اور اسے اٹھنے کی کوشش کے دوران سر پر مزید لاتیں ماریں۔
تشدد اس وقت رکا جب وہاں موجود چند افراد نے مداخلت کی اور ڈوڈ کو روکنے کیلئے اس پر حملہ کردیا۔
ہوٹل پہنچ کر دوبارہ تشدد
عدالت کے مطابق معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ہوٹل پہنچنے کے بعد ڈوڈ نے اپنی گرل فرینڈ کو ایک آئینے کی طرف دھکا دیا، جس سے آئینہ ٹوٹ گیا۔
متاثرہ خاتون کی دونوں آنکھوں کے گرد سوجن اور نیل، چہرے پر خراشیں، ہونٹ پھٹنے اور سر کے پچھلے حصے پر سوجن سمیت متعدد چوٹیں آئیں اور اسے دھندلا دکھائی دینے کی شکایت بھی ہوئی۔
اگلی صبح ڈوڈ نے اسے دھوپ کا چشمہ خرید کر دیا تاکہ آنکھوں کے گرد موجود چوٹیں چھپائی جاسکیں۔
برطانیہ واپسی کے بعد بھی معاملہ ختم نہ ہوا
عدالت کو بتایا گیا کہ برطانیہ واپس آنے کے بعد ڈوڈ نے اپنا رویہ تبدیل کرنے اور مدد حاصل کرنے کا وعدہ کیا، تاہم اپریل میں ایک اور واقعے کے بعد دونوں کا آمنے سامنے رابطہ ختم ہوگیا۔
اس کے باوجود ڈوڈ نے فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے خاتون سے رابطہ جاری رکھا اور اسے کہا کہ وہ پولیس سے رابطہ کرلے، ورنہ وہ اس کا پیچھا کرتا رہے گا۔
بعد ازاں دونوں خاندانوں کے اصرار پر متاثرہ خاتون نے معاملہ پولیس کو رپورٹ کردیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اس واقعے کے بعد خاتون کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور اسے پانچ ماہ کام سے چھٹی لینا پڑی۔
جرم کا اعتراف، 680 دن جیل
اوون ڈوڈ نے جسمانی نقصان پہنچانے والے حملے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے جرائم کا اعتراف کیا۔
عدالت نے اسے 680 دن قید کی سزا سنانے کے ساتھ متاثرہ خاتون سے رابطہ روکنے کیلئے غیر معینہ مدت کا پابندی کا حکم بھی جاری کردیا۔
سزا سناتے ہوئے ریکارڈر تانیا گرفتھس کے سی نے ڈوڈ کے رویے کو ابتدا ہی سے سنگین، قابو پانے والا اور جارحانہ قرار دیا اور کہا کہ فوری قید کی سزا ضروری ہے۔
عدالت نے معطل سزا دینے کی دفاع کی درخواست قبول نہیں کی اور ڈوڈ کو فوری طور پر جیل بھیج دیا گیا۔
