تکبیر نیوز (میڈرڈ): اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 87 سالہ خاتون کو اس گھر سے بے دخل کیے جانے کے بعد جہاں وہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم تھیں، ہاؤسنگ بحران کے خلاف شدید احتجاج شروع ہوگیا، جبکہ مظاہرین نے شہر کے تاریخی پورٹا ڈیل سول میں خیمے لگا کر دھرنا دے دیا ہے۔
87 سالہ ماریا ڈیل کارمن اباسکل، جنہیں مقامی طور پر ماری کارمن کہا جاتا ہے، کو گزشتہ بدھ میڈرڈ کے ریتیرو علاقے میں واقع ان کے گھر سے بے دخل کیا گیا۔ وہ تقریباً 71 سال سے اسی گھر میں مقیم تھیں۔
ہفتے کو ان کی بے دخلی کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ ہسپانوی ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے شرکا کی تعداد تقریباً 25 ہزار بتائی۔ مظاہرہ پورٹا ڈیل سول سے شروع ہوا اور پارلیمنٹ کی عمارت تک پہنچنے کے بعد متعدد مظاہرین دوبارہ اسی چوک میں واپس آئے اور وہاں خیمے لگا دیے۔
87 سالہ خاتون کو اسٹریچر پر گھر سے نکالا گیا
بے دخلی کے موقع پر ماری کارمن کو اسٹریچر پر گھر سے باہر لایا گیا اور بعد میں ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔ سینکڑوں کارکن اور مقامی رہائشی اس موقع پر موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق ماری کارمن کے والد نے یہ فلیٹ 1950 کی دہائی میں کرائے پر لیا تھا اور والدین کی وفات کے بعد وہ پرانے کرایہ نظام کے تحت یہاں رہتی رہیں۔
بعد میں عمارت کی ملکیت تبدیل ہوگئی اور ماری کارمن کا طویل عرصے سے جاری کرایہ کا تنازع بے دخلی تک پہنچ گیا۔ ہسپانوی ذرائع کے مطابق ان کا پرانا ماہانہ کرایہ تقریباً 500 یورو تھا جبکہ بعد میں ان سے 2,650 یورو ماہانہ تک کا کرایہ طلب کیا گیا، جو ان کی پنشن سے کہیں زیادہ تھا۔
بے دخلی نے ہاؤسنگ بحران پر نئی بحث چھیڑ دی
ماری کارمن کا معاملہ اب اسپین میں بڑھتے ہوئے کرایوں اور رہائش کے بحران کی علامت بن گیا ہے۔
احتجاج کا اہتمام کرنے والی میڈرڈ ٹیننٹس یونین ایسے اقدامات کا مطالبہ کررہی ہے جن سے کرایہ داروں کو بے دخلی سے زیادہ تحفظ ملے اور رہائش کے متبادل انتظام کے بغیر بے دخلیوں کو روکا جاسکے۔ یونین کرایہ داری کے قوانین میں مزید تبدیلیاں بھی چاہتی ہے۔
پورٹا ڈیل سول میں خیمے، احتجاج جاری
مظاہرے کے بعد متعدد افراد گھر واپس جانے کے بجائے پورٹا ڈیل سول میں رک گئے اور خیمے لگا کر احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اتوار تک دھرنے میں مزید لوگ شامل ہورہے تھے اور مظاہرین خوراک، پانی اور دیگر ضروری سامان کا انتظام کرتے دکھائی دیے۔ منتظمین کا مقصد منگل کو ہونے والے ہسپانوی کابینہ کے اجلاس تک حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
مظاہرین چاہتے ہیں کہ حکومت کرایہ داروں کے تحفظ کیلئے نئے اقدامات منظور کرے۔ حکومت بھی منگل کے کابینہ اجلاس سے قبل ہاؤسنگ سے متعلق اقدامات پر کام کررہی ہے، تاہم ان اقدامات کی حتمی شکل ابھی سیاسی عمل سے گزرنا باقی ہے۔
2011 کے تاریخی احتجاج کی یاد تازہ
پورٹا ڈیل سول میں خیموں کے ساتھ جاری احتجاج نے 2011 کی 15-M تحریک کی یاد تازہ کردی ہے، جب معاشی بحران، بے روزگاری، کفایت شعاری اور رہائش سمیت مختلف مسائل کے خلاف مظاہرین نے اسی مقام پر طویل دھرنا دیا تھا۔
موجودہ احتجاج میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ ماری کارمن کا معاملہ صرف ایک خاتون کی بے دخلی کا مسئلہ نہیں بلکہ اسپین میں بڑھتے ہوئے کرایوں اور عام لوگوں کیلئے مناسب رہائش کے حصول میں مشکلات کی علامت بن چکا ہے۔
