تکبیر نیوز (لندن): لندن میں نوجوان گینگز کے درمیان تشدد کی ایک تشویشناک نئی شکل سامنے آئی ہے جہاں بعض گروہ سوشل میڈیا پر نام نہاد ’اسکور بورڈ‘ بنا کر چاقو حملوں، فائرنگ اور دیگر پرتشدد واقعات کو پوائنٹس کی شکل میں پیش کررہے ہیں۔
تازہ تحقیق کے مطابق گینگ سے وابستہ افراد ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے اسکور بورڈ شیئر کرتے ہیں جن میں حریف گروہوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کو مقابلے کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ آن لائن اشتعال انگیزی جنوبی لندن کے لیمبتھ اور ساؤتھ وارک میں نوجوانوں کے درمیان انتقامی تشدد کو ہوا دینے والے عوامل میں شامل ہے۔ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ان دونوں علاقوں میں 11 قتل رپورٹ ہوئے۔
حملے کو ’گیم‘ کی طرح پیش کرنے کا رجحان
LBC کی تحقیق کے دوران میٹروپولیٹن پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ گینگ حلقوں میں اسے باقاعدہ ’اسکور بورڈ‘ کہا جاتا ہے۔
افسر کے مطابق بعض ریپ اور ڈرل ویڈیوز کے ساتھ سوشل میڈیا پوسٹس میں ’اسکور کرنے‘ یا ’بورڈ پر آنے‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ کوئی شخص گینگ سرگرمیوں میں کتنا متحرک ہے، جبکہ لڑائی یا کسی شخص کو چاقو مارنے جیسے پرتشدد اقدامات کو بعض حلقوں میں ’پوائنٹس‘ حاصل کرنے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اس رجحان نے پولیس اور نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والے حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے کیونکہ حقیقی انسانی جانوں اور زخمی ہونے کے واقعات کو مقابلے اور برتری کے اظہار میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا پر حریف گینگز کو اشتعال دلانے کا الزام
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ آن لائن اسکور بورڈ صرف اعداد و شمار رکھنے تک محدود نہیں بلکہ حریف گروہوں کو نیچا دکھانے اور اشتعال دلانے کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
پولیس کے مطابق ایک گروہ کی جانب سے حملہ ہونے کے بعد حریف گروہ بدلہ لینے کی کوشش کرسکتا ہے، جس سے تشدد کا سلسلہ مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
بے گناہ شہری بھی تشدد کی زد میں
اس گینگ تشدد کے دوران ایسے افراد بھی جان سے گئے جن کا مبینہ طور پر گینگ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ان میں 25 سالہ بس ڈرائیور آگست میری بائلے آکا اموا بھی شامل تھا، جسے اگست میں کلیپہم میں گاڑی سے کی گئی فائرنگ کے دوران قتل کردیا گیا۔
LBC کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ وہ حملے کا اصل ہدف نہیں تھا اور گینگ جرائم میں ملوث نہیں تھا۔
’آپریشن گیلیم‘ کے تحت بڑا کریک ڈاؤن
جنوبی لندن میں بڑھتے گینگ تشدد کے خلاف میٹروپولیٹن پولیس نے آپریشن گیلیم کے تحت بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔
تازہ تحقیق کے مطابق اس کارروائی کے دوران اب تک 700 سے زائد گرفتاریاں کی جاچکی ہیں جبکہ 40 سے زیادہ خطرناک ہتھیار، جن میں آتشیں اسلحہ اور بڑے چاقو شامل ہیں، برآمد کیے گئے۔ لاکھوں پاؤنڈ مالیت کی منشیات بھی ضبط کی گئی ہیں۔
میٹروپولیٹن پولیس نے اگست میں آپریشن کے ایک ہفتہ طویل مرحلے کے سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صرف اس کارروائی میں 297 افراد گرفتار، 238 پر الزامات عائد اور 38 خطرناک ہتھیار برآمد کیے گئے تھے۔
پولیس کے مطابق کارروائیاں لیمبتھ اور ساؤتھ وارک میں گینگ کشیدگی اور حالیہ سنگین واقعات کے بعد کی گئیں۔
آن لائن اشتعال انگیزی بڑا چیلنج
پولیس کا کہنا ہے کہ گینگز کے خلاف گرفتاریوں اور ہتھیاروں کی برآمدگی کے ساتھ سوشل میڈیا پر ہونے والی اشتعال انگیزی سے نمٹنا بھی اہم ہے۔
تحقیق میں پولیس افسران نے بتایا کہ حریف گروہوں کو سوشل میڈیا پر للکارنا بعض اوقات حقیقی دنیا میں جوابی حملوں کا سبب بنتا ہے۔
پولیس کی تازہ کارروائیوں کے باوجود حکام کیلئے بڑا چیلنج ایسے نوجوانوں کو اس تشدد سے دور رکھنا ہے جو آن لائن شہرت، گینگ کی برتری اور انتقام کے اس خطرناک سلسلے میں شامل ہورہے ہیں۔
