تکبیر نیوز (اسلام آباد): پاکستان کی جانب سے امریکی ڈرون کمپنی پاورس سے بغیر پائلٹ فضائی نظام کی محدود خریداری اور مستقبل میں دفاعی تعاون کے فیصلے کے بعد کمپنی کے بھارت میں موجود کاروباری معاہدے، ٹرمپ خاندان کی سرمایہ کاری اور ایک شریک بانی کے اسرائیلی فوجی پس منظر پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
16 ستمبر کو پاورس کے وفد نے راولپنڈی میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی تھی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات میں دفاعی خریداری، پیداوار اور طویل مدتی استعداد بڑھانے سے متعلق تعاون پر بات چیت ہوئی۔
ایک روز بعد پاورس نے بتایا کہ اسے پاکستان کی وزارت دفاع سے بغیر پائلٹ فضائی نظام کی محدود خریداری کا آرڈر ملا ہے اور پاک فوج کے ساتھ ایک علیحدہ مفاہمتی یادداشت بھی طے پائی ہے۔ رائٹرز نے بھی کمپنی کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ کے حوالے سے اس ابتدائی آرڈر کی تصدیق کی ہے۔
تاہم خریداری کی مالیت، ڈرونز کی تعداد اور مخصوص نظام کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
کمپنی کے مطابق مفاہمتی یادداشت حتمی خریداری کا معاہدہ نہیں اور اس سے مزید خریداری کی لازمی ذمہ داری پیدا نہیں ہوتی۔ مستقبل کا تعاون امریکی قوانین اور متعلقہ حکومتی منظوریوں سے بھی مشروط ہوگا۔
بھارت میں بھی ڈرون ٹیکنالوجی کا معاہدہ
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان سے معاہدے سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ قبل پاورس بھارت کی ایک دفاعی کمپنی کے ساتھ بھی معاہدہ کرچکی تھی۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنی پارس ڈیفنس اینڈ اسپیس ٹیکنالوجیز نے 30 جون کو بتایا تھا کہ پاورس نے اسے بھارت میں اپنے گارڈین-1 ڈرون شکن نظام کی تیاری اور فروخت کا خصوصی حق دیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد بعض دفاعی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان اور بھارت جیسے حریف ممالک کو ایک ہی کمپنی کی جانب سے دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کیے جانے کی صورت میں حساس معلومات اور عملی سلامتی کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا۔
ایک سابق پاکستانی دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر پاکستانی منصوبہ ساز کمپنی کے بھارتی معاہدے سے پہلے ہی واقف تھے، جبکہ ایک ریٹائرڈ پاکستانی ایئر مارشل نے اسے ممکنہ خطرات کا حامل انتظام قرار دیا۔
تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ حریف ممالک کا ایک ہی بین الاقوامی دفاعی کمپنی سے سازوسامان حاصل کرنا کوئی بالکل نئی مثال نہیں ہے۔
شریک بانی کا اسرائیلی فوجی پس منظر
کمپنی کی قیادت کا پس منظر بھی پاکستان میں توجہ کا مرکز بنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاورس کی ویب سائٹ پر اس کے شریک بانی زیو ماروم کو اسرائیلی فوج کا سابق اہلکار بتایا گیا ہے۔
کمپنی کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار جسٹن گینز ماضی میں اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے امریکی ادارے میں نائب صدر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اسی لیے بعض پاکستانی دفاعی ماہرین نے اس پس منظر کو ایک حساس معاملہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار بلال خان کے مطابق پاکستان ماضی میں ایسے امریکی اور یورپی دفاعی نظام بھی حاصل کرتا رہا ہے جن میں اسرائیلی ساختہ پرزے شامل رہے ہیں۔
ٹرمپ کے بیٹے بھی سرمایہ کار
پاورس کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے بھی مالی تعلق موجود ہے۔
امریکی دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ اپنے سرمایہ کاری ادارے امریکن وینچرز کے ذریعے اس کاروباری ڈھانچے میں سرمایہ کار ہیں جو پاورس کے انضمام کے بعد مشترکہ کمپنی میں تقریباً 9.9 فیصد فائدہ مند ملکیت رکھنے کی توقع رکھتا ہے۔ رائٹرز نے بھی اس سرمایہ کاری کی تصدیق کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ صرف غیر فعال سرمایہ کار ہیں، کمپنی کے انتظامی معاملات یا معاہدوں میں ان کا کوئی کردار نہیں اور انہیں پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی پیشگی معلومات بھی نہیں تھیں۔
پاورس نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کے دونوں بیٹے کمپنی کے مشیر نہیں اور اس کے دفاعی معاہدوں یا روزمرہ کاروباری فیصلوں میں شامل نہیں ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے مفادات کے ٹکراؤ کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
پاکستان کے پاس پہلے ہی متعدد ڈرون نظام
پاکستان پہلے ہی مقامی اور غیر ملکی ساختہ مختلف ڈرون نظام استعمال کررہا ہے۔
پاکستانی فضائیہ ترکی کے بائراکتار ٹی بی ٹو اور اکنجی، چین کے ونگ لونگ-II جبکہ مقامی سطح پر تیار کردہ شاہپر-II جیسے ڈرون نظام دکھا چکی ہے۔
اسی وجہ سے بعض ماہرین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ پاورس پاکستان کو ایسی کون سی اضافی صلاحیت فراہم کرسکتی ہے جو پہلے سے دستیاب نہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ممکنہ فائدہ صرف ڈرون تیار کرنے میں نہیں بلکہ جدید برقی نظام، مختلف دفاعی ٹیکنالوجیز کے باہمی انضمام اور بڑے پیمانے پر کم لاگت ڈرون شکن نظام تیار کرنے میں ہوسکتا ہے۔
پاورس کے گارڈین نظام چھوٹے ڈرون شکن طیارے ہیں جو آنے والے دشمن ڈرون کو فضا میں روکنے کیلئے تیار کیے گئے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق مہنگے فضائی دفاعی میزائل استعمال کرنے کے مقابلے میں ایسے نظام نسبتاً کم لاگت متبادل فراہم کرسکتے ہیں۔
معاہدہ کتنا اہم؟ ابھی فیصلہ قبل از وقت
رپورٹ میں بعض ماہرین نے ایک نسبتاً نئی امریکی کمپنی کے ساتھ اس نوعیت کے تعاون کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے، جبکہ دیگر تجزیہ کاروں نے امکان ظاہر کیا کہ اس کے ذریعے پاکستان جدید امریکی ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور سرمایہ کاری تک رسائی بڑھانا چاہتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بھی پاورس پاکستان میں مشترکہ ٹیکنالوجی کے امکانات تلاش کررہی ہے، تاہم موجودہ آرڈر کی تفصیلات سکیورٹی اور رازداری کی بنیاد پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
اس لیے موجودہ معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ محدود خریداری مستقبل میں کسی بڑے دفاعی منصوبے میں تبدیل ہوگی۔ اس معاہدے کی اصل اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوگی جب خریدے جانے والے نظام، مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مستقبل کے آرڈرز سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
