تکبیر نیوز (تہران): ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد انڈا سوشل میڈیا پر ’سلیبریٹی‘ بن گیا، شہری انڈوں کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مہنگائی پر طنزیہ انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں ایرانی شہری روزمرہ استعمال کی عام چیز سمجھے جانے والے انڈوں کو کسی قیمتی اور نایاب شے کی طرح پیش کررہے ہیں۔
اس دلچسپ رجحان کے پیچھے اصل وجہ انڈوں سمیت بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والا بڑا اضافہ بتایا جارہا ہے۔
انڈوں کیساتھ تصاویر، مہنگائی پر طنز
ایرانی سوشل میڈیا صارفین انڈوں کے ساتھ تصاویر بناتے ہوئے انہیں کسی مشہور شخصیت یا انتہائی قیمتی چیز کی طرح پیش کررہے ہیں۔
اس رجحان کو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف طنزیہ اور علامتی ردعمل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران میں ایک انڈے کی قیمت تقریباً 4 ہزار 600 سے 8 ہزار تومان تک بتائی گئی ہے۔
چاول اور انڈوں کی قیمتیں تقریباً تین گنا
مہنگائی صرف انڈوں تک محدود نہیں۔ چاول، کھانا پکانے کا تیل، مرغی، گوشت اور دیگر روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے بھی ایرانی گھرانوں کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران چاول اور انڈوں جیسی بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتیں تقریباً تین گنا تک پہنچ چکی ہیں۔
ایران میں طویل عرصے سے جاری مہنگائی اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے ساتھ پابندیوں اور حالیہ جنگی حالات کو بھی موجودہ معاشی دباؤ میں اضافے کے عوامل میں شمار کیا جارہا ہے۔
قوتِ خرید میں کمی سے شہری پریشان
بڑھتی قیمتوں کے باعث بہت سے ایرانی خاندانوں کیلئے روزمرہ خوراک کی خریداری بھی مشکل ہوتی جارہی ہے۔
ایسے حالات میں شہریوں نے مہنگائی پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کیلئے طنز و مزاح کا سہارا لیا اور کبھی انتہائی عام اور سستی غذا سمجھے جانے والے انڈے کو ہی سوشل میڈیا کا ’سلیبریٹی‘ بنا دیا۔
