تکبیر نیوز (اسلام آباد): نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 212 افراد کو تحویل میں لے لیا، جن میں پاکستانی اور چینی مرد و خواتین شامل ہیں۔
ترجمان NCCIA کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر E-11 اور G-10 میں قائم تین کال سینٹرز پر چھاپے مارے گئے، جہاں خصوصی ٹیموں نے مختلف حصوں کی تلاشی لی اور بڑی تعداد میں کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات قبضے میں لے لیے۔
212 پاکستانی اور چینی شہری تحویل میں
حکام کے مطابق تینوں کال سینٹرز سے مجموعی طور پر 212 افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے۔
زیر حراست افراد میں پاکستانی اور چینی شہری شامل ہیں، جبکہ مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام افراد کے کردار اور مبینہ سرگرمیوں کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اس مرحلے پر زیر حراست تمام افراد کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا۔
306 موبائل فونز اور 383 کمپیوٹرز برآمد
NCCIA کے مطابق کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل آلات اور شواہد قبضے میں لیے گئے۔
حکام کے مطابق برآمد ہونے والی اشیا میں:
- 306 موبائل فونز
- 383 کمپیوٹرز اور CPU
- 299 مانیٹرز
- لیپ ٹاپس
- دیگر ڈیجیٹل شواہد
شامل ہیں۔
تحقیقاتی ٹیمیں قبضے میں لیے گئے ڈیجیٹل آلات کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ کال سینٹرز کی مبینہ سرگرمیوں اور ان سے منسلک افراد کے کردار کا تعین کیا جاسکے۔
بھارت اور برازیل سے مبینہ روابط کی تحقیقات
NCCIA حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اس نیٹ ورک کے بھارت اور برازیل سے مبینہ روابط سامنے آئے ہیں۔
حکام اب ممکنہ بین الاقوامی نیٹ ورک، مالی معاملات، آن لائن سرگرمیوں اور دیگر روابط سمیت مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہے ہیں۔
تاہم ان مبینہ بین الاقوامی روابط کی مکمل نوعیت اور زیر حراست افراد کے ان سے تعلق کا حتمی تعین تحقیقات کے بعد ہوگا۔
پلازا کو سب جیل قرار دے دیا گیا
حکام کے مطابق زیر حراست افراد کی بڑی تعداد کے باعث متعلقہ پلازا کو عارضی طور پر سب جیل قرار دے کر تمام افراد کو وہیں رکھا گیا ہے۔
NCCIA نے معاملے کا مقدمہ درج کرکے باقاعدہ تفتیش شروع کردی ہے۔
تحقیقاتی حکام قبضے میں لیے گئے کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ مبینہ نیٹ ورک کس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اس کے ممکنہ بین الاقوامی روابط کس حد تک پھیلے ہوئے تھے۔
