تکبیر نیوز (سولی ہل): برطانیہ کے علاقے سولی ہل میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ کیون جانسن پر قتل کا الزام عائد کردیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے ملزم کو اگلی پیشی تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے مطابق اسٹورٹ نیش 19 ستمبر کی شام سولی ہل کی شسٹوک روڈ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے۔
پولیس نے تحقیقات کے بعد برمنگھم سے تعلق رکھنے والے کیون جانسن پر اسٹورٹ نیش کے قتل کا الزام عائد کیا۔
کیون جانسن عدالت میں پیش
38 سالہ کیون جانسن کو منگل 22 ستمبر کی صبح کووینٹری کی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے اسے حراست میں رکھنے کا حکم دیتے ہوئے اگلی پیشی جمعرات 24 ستمبر کو برمنگھم کراؤن کورٹ میں مقرر کردی۔
واضح رہے کہ کیون جانسن پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم یہ الزام ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوا۔
35 سالہ خاتون ضمانت پر رہا
پولیس نے اس کیس میں ایک 35 سالہ خاتون کو بھی مبینہ طور پر ملزم کی معاونت کرنے کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔
خاتون کو بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا جبکہ اس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
چھ بچوں کے والد اور دادا تھے
اسٹورٹ نیش کے اہل خانہ نے پولیس کے ذریعے جاری بیان میں انہیں اپنے خاندان کیلئے انتہائی اہم شخصیت قرار دیا۔
خاندان کے مطابق اسٹورٹ چھ بچوں کے والد تھے، جن میں ان کی سوتیلی بیٹی بھی شامل تھی۔ وہ دادا بھی تھے اور ان کی منگنی ہوچکی تھی۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ باپ ہونا اسٹورٹ کی زندگی کی سب سے اہم چیزوں میں شامل تھا اور وہ اپنے بچوں اور خاندان سے بے حد محبت کرتے تھے۔
خاندان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسٹورٹ ان کیلئے مضبوط سہارا تھے اور ان کی موت نے خاندان کی زندگی میں ایک ایسا خلا چھوڑ دیا ہے جسے پُر کرنا مشکل ہوگا۔
اہل خانہ کے مطابق وہ محبت کرنے والے اور مہربان انسان تھے اور اپنے پیاروں کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے تھے۔
جائے وقوعہ پر پھول رکھ دیے گئے
شسٹوک روڈ پر جائے وقوعہ کے قریب اسٹورٹ نیش کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پھول بھی رکھے گئے ہیں۔
اہل خانہ نے کہا کہ اسٹورٹ کو کھونے کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور ان کی زندگیاں اب پہلے جیسی نہیں رہیں گی۔
انہوں نے اس مشکل وقت میں اپنی نجی زندگی کا احترام کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے واقعے سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد سے سامنے آنے کی اپیل کی ہے، جبکہ قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔
