تکبیر نیوز (لندن): لندن کے پٹنی برج پر خاتون کو چلتی بس کے سامنے دھکا دینے کے مشہور کیس کی تحقیقات میں گرفتار کیے گئے 44 سالہ سابق بینکار نکولس برینڈرم مغربی لندن میں اپنے گھر سے مردہ پائے گئے، جبکہ پولیس کے ساتھ ان کے رابطے کا معاملہ پولیس نگرانی کے آزاد ادارے کو بھیج دیا گیا ہے۔
ویسٹ لندن کورونر کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ نکولس برینڈرم 15 ستمبر 2026 کی شام اہل خانہ کے ساتھ طے شدہ کھانے پر نہیں پہنچے تھے۔
ان کے نہ پہنچنے پر اہل خانہ کو تشویش ہوئی، جس کے بعد ان کے بہنوئی چزک کی کرین بروک روڈ پر واقع گھر پہنچے۔ پڑوسی سے اضافی چابی حاصل کرکے گھر میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے نکولس کو بالائی منزل کے ایک کمرے میں پایا۔
امدادی کارکنوں نے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم رات 8 بج کر 58 منٹ پر ان کی موت کی تصدیق کردی گئی۔
موت کو مشکوک قرار نہیں دیا گیا
عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس نکولس برینڈرم کی موت کو مشکوک نہیں سمجھ رہی اور اب تک کسی دوسرے شخص کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ گردن پر پھندے کا دباؤ بتائی گئی ہے۔
لندن ویسٹ کی علاقائی کورونر میلانی لی نے ان کی موت سے متعلق عدالتی تحقیقات کا آغاز کیا، تاہم بعد میں کارروائی معطل کردی گئی۔
2017 میں خاتون کو بس کے سامنے دھکا دیا گیا تھا
نکولس برینڈرم کو رواں سال جون میں پٹنی برج پر 5 مئی 2017 کو پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اس واقعے میں پل پر دوڑنے والے ایک شخص نے ایک خاتون کو اچانک دھکا دے دیا تھا، جس کے باعث وہ سامنے سے آنے والی بس کے راستے میں جاگری تھیں۔
واقعے کی ویڈیو بڑے پیمانے پر سامنے آنے کے بعد پولیس نے ذمہ دار شخص کی تلاش شروع کی تھی۔
نکولس برینڈرم کو رواں سال اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں انہیں مزید تحقیقات جاری رکھتے ہوئے رہا کردیا گیا تھا۔ ان کے خلاف اس واقعے میں کوئی جرم ثابت نہیں ہوا تھا۔
پولیس نے اپنا معاملہ آزاد نگران ادارے کو بھیج دیا
میٹروپولیٹن پولیس نے نکولس برینڈرم کے ساتھ اپنے رابطوں کے معاملے کو پولیس کے آزاد نگران ادارے کے پاس بھیج دیا ہے۔
کورونر میلانی لی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس پیشرفت سے آگاہ کیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر نکولس کی موت سے متعلق عدالتی تحقیقات فی الحال معطل کی جارہی ہیں۔
کورونر نے واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی فوجداری مقدمے کی سماعت نہیں اور اس مرحلے پر کسی شخص یا ادارے کو قصوروار قرار نہیں دیا جارہا۔
دوسری جانب میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق پٹنی برج پر خاتون کو دھکا دینے کے اصل واقعے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔
خاندان نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھا دیے
نکولس برینڈرم کے اہل خانہ نے اس سے قبل پولیس کی تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ان کی بہنوں الیکسیا ہکس اور سوفی وولکر کا مؤقف ہے کہ نکولس کی ظاہری شکل پٹنی برج واقعے میں مطلوب شخص کی بیان کردہ شناخت سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
خاندان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نکولس پولیس تحقیقات کے باعث کئی ماہ سے شدید دباؤ کا سامنا کررہے تھے۔
یہ خاندان کا مؤقف ہے، جبکہ پولیس کے کردار اور نکولس برینڈرم کے ساتھ اس کے رابطوں سے متعلق معاملہ اب متعلقہ آزاد نگران ادارے کو بھیجا جاچکا ہے۔
