تکبیر نیوز (ٹنڈوالہ یار): سندھ کے ضلع ٹنڈوالہ یار میں شادی کی تقریب کے دوران کھانا کھانے کے بعد دلہا دلہن سمیت تقریباً 400 افراد کی حالت غیر ہوگئی، متاثرین کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچنے پر ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ ایک نجی شادی ہال میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں کھانا کھانے کے بعد بڑی تعداد میں مہمانوں کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوگئی۔
متاثرہ افراد میں مرد، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی، جبکہ بعض افراد کے بے ہوش ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔
مریضوں کی بڑی تعداد کو ٹنڈوالہ یار سول ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کرکے طبی ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر تعینات کیا گیا۔
کئی متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا، جبکہ بعض مریضوں کا علاج جاری رہا۔
واقعے کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کردیں اور تقریب میں پیش کیے جانے والے کھانے کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے بھجوا دیے گئے تاکہ لوگوں کی طبیعت خراب ہونے کی اصل وجہ معلوم کی جاسکے۔
ابتدائی رپورٹس میں واقعے کو مبینہ طور پر مضر صحت کھانے سے جوڑا گیا ہے، تاہم حتمی وجہ لیبارٹری رپورٹ اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹنڈوالہ یار میں سیکڑوں افراد کی حالت غیر ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس اور کمشنر حیدرآباد سے رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام متاثرہ افراد کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جائے اور ضرورت کے مطابق متعلقہ ہسپتالوں میں ہنگامی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
سید مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ متاثرہ افراد کے علاج میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
حکام واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ لیبارٹری رپورٹ سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ تقریب میں پیش کیے گئے کھانے میں ایسی کون سی خرابی تھی جس کے باعث اتنی بڑی تعداد میں افراد متاثر ہوئے۔
