تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ میں تقریباً چھ سال سے لاپتا تین بچوں کی ماں جوآن شین کی انسانی باقیات لندن کے علاقے فیلتھم سے ملنے کے بعد پولیس نے 56 سالہ شخص کو قتل کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔
جوآن شین کی عمر لاپتا ہونے کے وقت 44 سال تھی۔ انہیں آخری مرتبہ 5 دسمبر 2019 کو دیکھا گیا تھا، جب وہ ایک دوست کے ہمراہ فیرہم سے ساؤتھمپٹن گئی تھیں۔
پولیس کے مطابق 12 اگست کو لندن کے علاقے فیلتھم میں پیڈسٹو واک کے قریب جھاڑیوں سے انسانی ہڈیاں ملنے کی اطلاع پر میٹروپولیٹن پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچے۔ یہ علاقہ تقریباً ایک ہفتہ قبل لگنے والی آگ سے متاثر ہوا تھا۔
بعد ازاں فرانزک جانچ کے دوران انسانی باقیات کی شناخت لاپتا خاتون جوآن شین کے طور پر ہوئی، جس کے بعد تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔
پولیس نے ساؤتھمپٹن سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ شخص کو، جسے اس مقدمے کے سلسلے میں پہلی مرتبہ 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا، قتل کی سازش کے شبے میں دوبارہ گرفتار کیا، جبکہ اسے مزید قتل کے شبے میں بھی گرفتار کیا گیا۔
مذکورہ شخص کو بعد میں مشروط ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اسی مقدمے میں ساؤتھمپٹن سے تعلق رکھنے والے ایک اور 56 سالہ شخص کو بھی قتل کی سازش کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا، جسے ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔
جوآن شین کے اہل خانہ نے انہیں آخری مرتبہ دیکھے جانے کے تقریباً دو ماہ بعد فروری 2020 میں لاپتا رپورٹ کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی تھیں۔
پولیس کے مطابق اس پیچیدہ تحقیقات کے دوران 4 ہزار سے زائد مختلف پہلوؤں اور معلومات پر کام کیا گیا، 300 سے زیادہ بیانات قلم بند کیے گئے جبکہ 10 سے زائد مقامات پر تفصیلی تلاشی بھی لی گئی۔
2020 میں تحقیقات کے دوران قتل کی سازش کے شبے میں متعدد گرفتاریاں بھی کی گئی تھیں، تاہم اس وقت کسی شخص کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور معاملہ حل طلب رہا۔
پولیس پہلے بتا چکی ہے کہ جوآن شین کا کوئی مستقل رہائشی پتہ نہیں تھا، ان کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کا کوئی بینک اکاؤنٹ تھا۔
لندن فائر بریگیڈ نے 5 اگست کو بیڈفونٹ پٹس میں لگنے والی آگ پر قابو پایا تھا، جس سے تقریباً دو ہیکٹر جھاڑیوں والا علاقہ متاثر ہوا۔ ایک ہفتے بعد بیڈفونٹ لیکس کنٹری پارک کے قریب اسی علاقے میں ایک شہری کو انسانی باقیات ملیں۔
باقیات کی شناخت جوآن شین کے طور پر ہونے کے بعد میٹروپولیٹن پولیس نے تحقیقات ہیمپشائر پولیس کے حوالے کر دیں، جو اب خاتون کی موت کے حالات اور اس سے متعلق افراد کے کردار کی تحقیقات کر رہی ہے۔
