تکبیر نیوز (کاؤنٹی ڈرہم): برطانیہ کے County Durham and Darlington NHS Foundation Trust میں بریسٹ کینسر سروسز سے متعلق سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، جہاں نئی تفصیلات کے مطابق 30 سے زائد خواتین کی ایسی سرجریاں کی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی جبکہ بعض خواتین کی چھاتی نکالنے کی سرجری (Mastectomy) بھی غیر ضروری قرار پائی۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹرسٹ کے زیرِ علاج 78 خواتین کو علاج کے نتیجے میں شدید یا درمیانے درجے کا نقصان پہنچا۔
NHS ٹرسٹ اس وقت جنوری 2023 سے فروری 2025 کے درمیان مریضوں کو فراہم کیے گئے علاج کے کیسز کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔
2 ستمبر تک 539 کیسز کا جائزہ لیا جا چکا تھا، جن میں 59 خواتین کو درمیانے درجے جبکہ 19 کو شدید نقصان پہنچنے کی نشاندہی ہوئی۔
مزید 242 کیسز میں معمولی نقصان سامنے آیا جبکہ 20 کیسز میں تشخیص میں تاخیر کی نشاندہی کی گئی۔
ٹرسٹ کا بورڈ 24 ستمبر کو عوامی اجلاس میں اس بات پر غور کرے گا کہ آیا تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے 2015 تک کے ہزاروں اضافی کیسز کا بھی جائزہ لیا جائے۔
متاثرہ خواتین مزید پرانے کیسز کی تحقیقات کی خواہاں
متاثرہ خواتین کی جانب سے قائم مریضوں کے گروپ Pink Justice Network کی امیلیا گرین نے تحقیقات کا دائرہ 2015 تک بڑھانے کے امکان کا خیرمقدم کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جائزہ اس سے بھی زیادہ پرانے کیسز تک جانا چاہیے۔
ان کے مطابق ایسا کرنے سے مزید خواتین کو ان سوالات کے جواب مل سکیں گے جن کی وہ حقدار ہیں اور ٹرسٹ ماضی میں ہونے والی غلطیوں سے بہتر طور پر سبق سیکھ سکے گا۔
کینسر کی تشخیص کے بعد چھاتی نکال دی گئی، بعد میں بتایا گیا سرجری ضروری نہیں تھی
متاثرہ خواتین میں کاؤنٹی ڈرہم کے Consett کی 51 سالہ ڈینیز ہاوارتھ (Denise Howarth) بھی شامل ہیں۔
انہیں فروری 2023 میں بائیں چھاتی میں اسٹیج ون کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔
ابتدائی طور پر ان کی Lumpectomy کی گئی اور lymph nodes نکالے گئے، تاہم بعد میں انہیں بتایا گیا کہ انہیں مزید Mastectomy یعنی چھاتی نکالنے کی سرجری کی ضرورت ہے۔
دو بچوں کی والدہ ڈینیز ہاوارتھ نے یہ سرجری کروائی، جس کے بعد ان کا کیموتھراپی اور ریڈیولوجی علاج بھی ہوا۔
تاہم ستمبر 2025 میں NHS ٹرسٹ نے ان سے رابطہ کرکے بتایا کہ ان کی Mastectomy کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ڈینیز کے مطابق یہ اطلاع ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی کیونکہ انہوں نے طبی ماہرین پر مکمل اعتماد کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ صرف معافی ان کے لیے کافی نہیں کیونکہ اس واقعے نے ان کی زندگی تبدیل کردی ہے اور چھاتی کھونے سے ان کے اعتماد اور شخصیت پر گہرا اثر پڑا ہے۔
NHS ٹرسٹ نے معافی مانگ لی
County Durham and Darlington NHS Foundation Trust کے چیف ایگزیکٹو اسٹیو رسل (Steve Russell) نے متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں سے معافی مانگتے ہوئے تسلیم کیا کہ بریسٹ سروسز میں خامیوں کے باعث مریضوں کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کو بعض مواقع پر مریضوں کی بات زیادہ توجہ سے سننی اور پہلے کارروائی کرنی چاہیے تھی۔
ان کے مطابق بریسٹ سروس میں اب اہم تبدیلیاں کی جا چکی ہیں اور مریضوں کے لیے سہولیات میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں فراہم کیے گئے علاج کا جائزہ بدستور جاری ہے تاکہ ایسے تمام مریضوں کی نشاندہی کی جاسکے جنہیں نقصان پہنچا ہو اور انہیں ضروری معلومات اور معاونت فراہم کی جاسکے۔
پبلک انکوائری کا مطالبہ
Hudgell Solicitors کی میڈیکل نیگلیجنس ٹیم سے تعلق رکھنے والی ریچل او کونر (Rachel O’Connor) نے معاملے پر عوامی تحقیقات (Public Inquiry) کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے مطابق ان کی ٹیم ایسی متعدد خواتین کو قانونی مشورہ فراہم کر رہی ہے جن کی سرجریاں کی گئیں اور بعد میں انہیں بتایا گیا کہ ان آپریشنز کی ضرورت نہیں تھی۔
رکن پارلیمنٹ کا بھی ردعمل
Durham City کی لیبر رکن پارلیمنٹ Mary Kelly Foy، جو خود بھی بریسٹ کینسر کا علاج کروا چکی ہیں، نے کہا کہ اب ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہر متاثرہ خاتون کو مکمل جواب اور ضروری معاونت فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ معاملے کی مکمل وسعت کا تعین کرنے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ کی جانے والی تبدیلیاں مستقبل میں ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روک سکیں۔
ٹرسٹ نے بریسٹ کیئر کے حوالے سے تشویش رکھنے والے افراد کے لیے خصوصی سپورٹ لائن 0191 333 2126 بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔
