تکبیر نیوز (نارتھ یارکشائر): برطانیہ میں گاڑی چلاتے ہوئے اسنیپ چیٹ پر ویڈیو بنانے کے دوران حادثے میں اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ کی موت کا باعث بننے والی نوجوان خاتون کی تین سال قید کی سزا بڑھا کر ساڑھے چار سال کردی گئی ہے۔
میا ہاؤرتھ (Mia Howarth)، جس کی عمر اب 21 سال ہے، حادثے کے وقت 18 سال کی تھی۔ وہ اس وقت HMP Low Newton، کاؤنٹی ڈرہم میں قید ہے۔
یہ حادثہ 12 ستمبر 2023 کو نارتھ یارکشائر کی ایک دیہی سنگل کیرج وے سڑک پر پیش آیا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ میا ہاؤرتھ Peugeot 107 چلا رہی تھی جبکہ گاڑی میں تین 17 سالہ لڑکے سوار تھے اور موسیقی سن رہے تھے۔
ان میں اس کا بوائے فرینڈ الفی لوویٹ (Alfie Lovett) بھی شامل تھا، جو کھلی کھڑکی کے فریم پر بیٹھا ہوا تھا۔
ڈرائیونگ کے دوران Snapchat پر ویڈیو
عدالت کے مطابق میا تقریباً 35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے الفی کی اسنیپ چیٹ ویڈیو بنا رہی تھی جب اس نے گاڑی پر قابو کھو دیا۔
گاڑی سڑک سے نکل کر گھاس کے کنارے پر چلی گئی اور پھر خشک پتھروں کی دیوار سے ٹکرا گئی۔
حادثہ اتنا شدید تھا کہ 17 سالہ الفی لوویٹ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔
میا ہاؤرتھ نے رواں سال مارچ میں یارک کراؤن کورٹ میں خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے موت کا باعث بننے کا جرم تسلیم کیا تھا۔
تین سال کی سزا کو کم قرار دیا گیا
ابتدائی طور پر میا کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم اٹارنی جنرل نے اسے “Unduly Lenient” یعنی غیر معمولی طور پر نرم سزا قرار دیتے ہوئے معاملہ کورٹ آف اپیل کو بھیج دیا۔
جمعہ کو کورٹ آف اپیل نے مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد سزا تین سال سے بڑھا کر ساڑھے چار سال قید کردی۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ابتدائی سزا جرم کی سنگینی کے مطابق مناسب سزا اور مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام کیلئے مؤثر پیغام دینے میں ناکافی تھی۔
عمر کی بنیاد پر ضرورت سے زیادہ رعایت دی گئی، عدالت
لارڈ جسٹس پوپل ویل نے مسٹر جسٹس لنڈن اور مسز جسٹس ہل کے ساتھ کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ ابتدائی سزا سنانے والے جج نے ملزمہ کی کم عمری کی بنیاد پر سزا میں ضرورت سے زیادہ کمی کی تھی۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ برطانوی جیلوں کے خراب حالات کو بنیاد بنا کر سزا کم کرنا درست نہیں تھا۔
جج نے کہا کہ عدالت اس بات سے متفق ہے کہ نوجوان عمر کی بنیاد پر سزا میں کمی کے طریقہ کار میں غلطی ہوئی۔
الفی صرف 12 ہفتے قبل باپ بنا تھا
میا ہاؤرتھ کے وکیل گلین پارسنز نے مقدمے کو ایک “گہرا سانحہ” قرار دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ الفی کی موت پر میا کا غم انتہائی شدید ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ میا کا الفی کے خاندان کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق تھا اور وہ اس کی زندگی پر مثبت اثر رکھتی تھی۔
الفی لوویٹ اپنی موت سے صرف 12 ہفتے قبل باپ بنا تھا۔
دفاع کے مطابق میا نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے گاڑی میں سوار نوجوانوں کو سیٹ بیلٹ پہننے کی ہدایت کی تھی اور انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے سیٹ بیلٹ اتاری تو کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داری اس پر آئے گی۔
حادثے کے وقت نوجوان Harrogate کے قریب National Trust کے Brimham Rocks جا رہے تھے۔
میا ہاؤرتھ نے HMP Low Newton سے ویڈیو لنک کے ذریعے کورٹ آف اپیل کی سماعت میں شرکت کی اور عدالتی کارروائی کے دوران روتی رہی۔
کورٹ آف اپیل کے فیصلے کے بعد اب اسے ساڑھے چار سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
