تکبیر نیوز (تھورنابی، برطانیہ): دو سالہ بچی ازابیل ویلش کے قتل کے بعد اس کے والد نے پولیس، سوشل سروسز اور NHS سمیت متعلقہ اداروں کی مبینہ ناکامیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکام اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے ادا کرتے تو ان کی ’’چھوٹی فرشتہ‘‘ آج زندہ ہوتی۔
ازابیل کو اس کی والدہ الیگزینڈر واکر اور اس کے نئے ساتھی ہیریسن سمپسن نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا تھا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ بچی پر کئی ہفتوں تک تشدد کیا گیا، جس کے دوران اسے جنسی زیادتی سمیت متعدد زخم آئے اور اس کی 21 ہڈیوں میں فریکچر ہوئے۔
پانچ ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد Teesside Crown Court نے 22 سالہ ہیریسن سمپسن کو قتل، جنسی زیادتی اور بچوں سے بدسلوکی کے الزامات میں مجرم قرار دیا، جبکہ 26 سالہ الیگزینڈر واکر کو قتل اور بچوں سے بدسلوکی کا مجرم قرار دیا گیا۔
عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ سمپسن کو کم از کم 27 سال اور 231 دن جبکہ واکر کو کم از کم 21 سال اور 48 دن جیل میں گزارنے ہوں گے۔
ازابیل کے والد جوشوا ویلش، 27 سال، نے دونوں مجرموں کو ’’سنگ دل درندے‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے تاکہ اسے کبھی فراموش نہ کیا جائے۔
جوشوا کے مطابق ان کی بیٹی خوش مزاج اور مسکراہٹ بکھیرنے والی بچی تھی اور وہ اس کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ازابیل کی پیدائش کے وقت اسے گود میں لینے والے پہلے شخص تھے۔
انہوں نے حکام پر الزام عائد کیا کہ ازابیل کو بچانے کے لیے متعدد مواقع موجود تھے، لیکن پولیس، سوشل سروسز اور NHS کی جانب سے مبینہ کوتاہیوں کے باعث وہ بروقت محفوظ نہ ہو سکی۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ سمپسن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ 18 ماہ تک زیر التوا رہا۔ یہ وارنٹ مارچ 2024 میں جاری کیا گیا تھا، تاہم پولیس اسے گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
جوشوا نے کہا کہ انہیں اس وارنٹ کے بارے میں پولیس نے آگاہ نہیں کیا بلکہ بیٹی کے قتل کے مقدمے میں فیصلے کے دو روز بعد ان کی بہن نے مقامی ریڈیو سے یہ معلومات حاصل کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس نے اپنا کام درست طریقے سے کیا ہوتا تو ممکن ہے ازابیل آج زندہ ہوتی۔
جوشوا نے مزید کہا کہ ازابیل کے معاملے میں سوشل سروسز اور NHS کے چائلڈ پروٹیکشن نظام کی جانب سے بھی کئی مواقع پر مداخلت کی گنجائش موجود تھی۔ ان کے مطابق طبی عملے نے حفاظتی اقدامات شروع کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عدالت میں بتایا گیا کہ بعض ڈاکٹروں نے ان اقدامات کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
پولیس کے مطابق ازابیل کو 13 ستمبر 2025 کو تھورنابی میں اس کے گھر سے شدید زخمی حالت میں پایا گیا تھا۔ ایمبولینس عملہ موقع پر پہنچا اور بچی کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اس کے سر پر لگنے والی چوٹ جان لیوا ثابت ہوئی اور اگلے روز وہ دم توڑ گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ازابیل کی والدہ نے ابتدا میں 999 پر فوری طور پر کال نہیں کی اور واقعے کے بعد اپنی کہانی تیار کرنے کی کوشش کی، جبکہ انٹرنیٹ پر یہ بھی تلاش کیا گیا کہ ’’میری بچی سے خون کیوں بہہ رہا ہے‘‘۔
جج مس جسٹس نورٹن نے قرار دیا کہ بچی کو یا تو تشدد کے دوران زور سے جھنجھوڑے جانے سے سخت سطح پر سر لگا یا اسے ٹانگوں سے پکڑ کر دیوار یا فرنیچر سے ٹکرایا گیا۔
سزا سناتے ہوئے عدالت نے ازابیل کو پہنچنے والے زخموں کو انتہائی سفاکانہ قرار دیا اور کہا کہ بچی اپنی زندگی کے آخری ہفتے میں شدید تکلیف اور اذیت میں تھی۔
کلیولینڈ پولیس کے سینئر تفتیشی افسر ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر اسٹیو چیٹرٹن نے بھی سزا کے بعد کہا کہ ازابیل ایک معصوم بچی تھی جسے گھر میں محفوظ اور خوش رہنا چاہیے تھا، جبکہ اس پر کیا جانے والا تشدد انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول تھا۔
دوسری جانب کلیولینڈ پولیس نے سمپسن کے زیر التوا گرفتاری وارنٹ سے متعلق کہا ہے کہ اسے تلاش کرنے اور گرفتار کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی گئی تھیں، تاہم وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔
پولیس نے تسلیم کیا کہ وارنٹ کے اتنے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے کا معاملہ ’’ہرگز مناسب نہیں‘‘ تھا۔ فورس کے مطابق اس واقعے کے بعد مشتبہ افراد کے انتظام اور زیر التوا وارنٹس کی نگرانی کے نظام میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
