تکبیر نیوز (برمنگھم):
برمنگھم کے معروف شیف اختر اسلام کی تیار کردہ مختلف کریز نے اس موسم گرما میں گریٹ ٹیسٹ ایوارڈز کے 9 اعزازات اپنے نام کر لیے۔ دو مشیلن ستاروں والے ریسٹورنٹ اوپیم کے سربراہ اختر اسلام نے گھر بیٹھے معیاری بھارتی کھانے فراہم کرنے کے منصوبے اختر ایٹ ہوم کے ذریعے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔
اختر اسلام برمنگھم کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ شیف کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا معروف ریسٹورنٹ اوپیم اعلیٰ معیار کے کھانوں کے لیے شہرت رکھتا ہے، تاہم اختر ایٹ ہوم کے ذریعے وہ نسبتاً کم قیمت میں ایسے کھانے فراہم کر رہے ہیں جنہیں گھر پر آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے۔
گھر بیٹھے معیاری کھانے کی سہولت
اختر ایٹ ہوم کا آغاز 2020 میں کورونا وبا کے دوران ہونے والے لاک ڈاؤن کے زمانے میں ہوا تھا۔ اس سروس کے تحت کھانوں کے مختلف ڈبے 45 پاؤنڈ سے دستیاب ہیں، جو دو سے چار افراد کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
زیادہ بڑے ڈبوں میں آٹھ مختلف کھانے، چاول کی دو مقداریں اور نان شامل ہوتے ہیں، جن کی قیمت 80 پاؤنڈ سے شروع ہوتی ہے۔ کھانے مخصوص طریقے سے منجمد کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں تین ماہ تک محفوظ رکھ کر ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔
اختر اسلام نے اپنے والد کے اسٹریٹفورڈ روڈ پر واقع ریسٹورنٹ میں کام کرتے ہوئے کھانے پکانے کا سفر شروع کیا تھا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ درجے کے کھانوں کی دنیا میں نمایاں مقام بنانے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اچھا بھارتی کھانا صرف مہنگے ریسٹورنٹس تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
گریٹ ٹیسٹ ایوارڈز میں شاندار کامیابی
اختر ایٹ ہوم کی سب سے بڑی کامیابی بیف کیرالن کری کو ملی، جس نے گریٹ ٹیسٹ ایوارڈز میں تین ستاروں کا اعزاز حاصل کیا۔ اس اعزاز کو اعلیٰ ترین درجہ سمجھا جاتا ہے اور 15 ہزار مصنوعات میں سے صرف تقریباً دو فیصد کو تین ستاروں کی درجہ بندی ملتی ہے۔
ججز نے بیف کیرالن کری کو روایتی کھانا پکانے کی مہارت کی بہترین مثال قرار دیا۔
اختر اسلام کی مزید سات ڈشز نے دو ستاروں کا اعزاز حاصل کیا۔ ان میں مرغ مکھنی، چکن جلفریزی، چکن مدراس، گوشت ساگ والا، ڈھابہ گوشت، روغن جوش اور پرون پاتھیہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ گوبھی مٹر کو بھی ایک ستارے کا اعزاز ملا۔
آسان تیاری اور روایتی ذائقہ
اختر ایٹ ہوم کے مطابق زیادہ تر کھانے چولہے پر صرف چند منٹ میں تیار کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اوون میں مکمل کیے جانے والے کھانوں کو بھی 20 منٹ سے کم وقت درکار ہوتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ کھانوں میں غیر ضروری تیل، گھی یا اضافی اجزا استعمال نہیں کیے جاتے جبکہ روایتی طریقۂ پکوان کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کھانوں کے لیے استعمال ہونے والے اجزا انہی سپلائرز سے حاصل کیے جاتے ہیں جو اوپیم کے لیے سامان فراہم کرتے ہیں۔
فلاحی کاموں میں بھی حصہ
اختر ایٹ ہوم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ مقامی فلاحی اداروں کی مدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ہر ہفتے سینکڑوں کھانے بھی عطیہ کیے جاتے ہیں۔
شیف اختر اسلام اندرونِ شہر کی کمیونٹیز سے ملازمین بھرتی کرنے پر بھی توجہ دیتے ہیں، جس سے ایسے علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں جہاں بے روزگاری کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔
گریٹ ٹیسٹ ایوارڈز کا انعقاد گِلڈ آف فائن فوڈ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر جان فارینڈ کے مطابق دنیا بھر میں خوراک کے تحفظ کا مسئلہ مسلسل اہم ہوتا جا رہا ہے اور مقامی مصنوعات تیار کرنے والے آزاد کاروباروں کی حوصلہ افزائی پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔
برمنگھم کے شیف اختر اسلام کی یہ کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ اعلیٰ معیار اور روایتی ذائقے کو نسبتاً آسان اور گھریلو انداز میں صارفین تک پہنچایا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ مقامی کمیونٹی اور فلاحی سرگرمیوں کو بھی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
