(تکبیر نیوز — لندن / مظفرآباد)
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کی ایک رپورٹ کے بعد برطانیہ کے معروف گرومنگ گینگ اسکینڈل سے متعلق ایک معاملہ آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سابق ریاستی وزیر اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نومنتخب رکن رخصار احمد کو جولائی 2024 میں برطانیہ میں ایک ایسے مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں ان پر 1990 کی دہائی میں زیرِ نگرانی رہنے والی کم عمر لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق الزامات کی تحقیقات کی جا رہی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد رخصار احمد کو پولیس ضمانت (Police Bail) پر رہا کر دیا گیا تھا اور انہیں گزشتہ ماہ مانچسٹر میں عدالت کے سامنے پیش ہونا تھا، تاہم انہوں نے بیماری کو جواز بنا کر پیشی سے استثنا طلب کیا۔
دی ٹیلیگراف کے مطابق برطانوی پولیس کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ اسی عرصے میں آزاد کشمیر کے انتخابات میں انتخابی مہم چلا رہے تھے اور بعد ازاں قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یہ معاملہ آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں بھی زیرِ بحث آ گیا ہے۔
تاحال رخصار احمد یا ان کی جماعت کی جانب سے ان الزامات اور رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ برطانوی قانون کے مطابق مقدمے کی حتمی عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کسی بھی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
