تکبیر نیوز، برطانیہ: برطانیہ کے علاقے اولڈبری میں اپنی کم عمر دوست کو ٹرک کے ذریعے کچل کر قتل کرنے والے شخص کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی۔ مجرم نے 19 سالہ نوجوان خاتون کو ٹرک سے ٹکر مارنے کے بعد ایک کھمبے سے دبا دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی تھیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ 41 سالہ محمد عظیم نے گزشتہ سال نومبر میں اپنے 41ویں یومِ پیدائش کے روز 19 سالہ للی وائٹ ہاؤس کو قتل کیا۔ مقتولہ اس سے کچھ دیر قبل اسپتال میں اپنے نومولود بچے کی عیادت کرکے واپس آئی تھیں۔ بچہ قبل از وقت پیدا ہونے کے باعث خصوصی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں کے درمیان کئی برسوں سے تعلقات تھے اور واقعے کے روز دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ جھگڑے کے بعد للی گاڑی سے اتر گئیں لیکن محمد عظیم نے ٹرک کے ذریعے ان کا تعاقب کیا اور انہیں نشانہ بنایا۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی نگرانی کیمروں کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ٹرک مقتولہ کو سڑک پر دھکیلتا رہا جبکہ بعد ازاں کیمرے کی نظروں سے اوجھل مقام پر انہیں ایک کھمبے سے دبا دیا گیا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ مجرم کا اقدام انتہائی خطرناک اور ناقابلِ معافی تھا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ ملزم جانتا تھا کہ مقتولہ ایک نومولود بچے کی ماں ہیں، اس کے باوجود اس نے ایسا قدم اٹھایا جس کے نتیجے میں ایک بچی اپنی ماں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئی۔
عدالت نے محمد عظیم کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے حکم دیا کہ وہ کم از کم 20 سال جیل میں گزارے گا، جس کے بعد ہی رہائی کے لیے درخواست دینے کا اہل ہوگا۔
مقتولہ کے اہل خانہ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کوئی سزا ان کی بیٹی کو واپس نہیں لا سکتی، تاہم انصاف کا حصول ان کے لیے کسی حد تک تسکین کا باعث ہے۔
