تکبیر نیوز، نوٹنگھم (برطانیہ): برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں ایک 18 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں عدالت نے 44 سالہ ملزم کو 12 سال سے زائد قید کی سزا سنا دی۔ ملزم نے جیل سے رہائی پانے کے صرف ایک روز بعد یہ سنگین جرم کیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق واقعہ گزشتہ سال جون میں نوٹنگھم سٹی سینٹر کے علاقے کینال اسٹریٹ میں پیش آیا۔ ملزم جوزف ہیلی ایک نوجوان لڑکی کو بہلا پھسلا کر نہر کے قریب ایک سنسان مقام پر لے گیا جہاں اس نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے دوستوں کو سماجی رابطے کی ایک ایپ کے ذریعے تشویشناک پیغامات موصول ہوئے، جن میں اس نے بتایا تھا کہ وہ ایک نامعلوم شخص کے ساتھ اکیلی موجود ہے۔ پیغامات ملنے پر دوستوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
اطلاع ملتے ہی نوٹنگھم شائر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقام کا تعین کیا اور متاثرہ لڑکی کو تلاش کر لیا۔ پولیس نے ملزم کو بھی جائے وقوعہ کے قریب سے گرفتار کر لیا۔
تحقیقات کے دوران نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ ملزم لڑکی کو ایک ویران علاقے کی جانب لے جا رہا تھا۔ ابتدائی طور پر ملزم نے دعویٰ کیا کہ تعلق باہمی رضامندی سے قائم ہوا تھا، تاہم بعد ازاں عدالتی کارروائی کے آغاز پر اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ماضی میں بھی چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں ملوث رہ چکا تھا اور وقوعے سے ایک دن قبل ہی جیل سے رہا ہوا تھا۔
نوٹنگھم کراؤن کورٹ نے ملزم کو خطرناک مجرم قرار دیتے ہوئے 12 سال اور ایک ماہ قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزم سزا کا بڑا حصہ جیل میں گزارنے کے بعد ہی رہائی کے لیے درخواست دے سکے گا۔
تفتیشی افسر میلیسا اسٹارمر نے کہا کہ ملزم نے ایک کمزور اور بے بس نوجوان لڑکی کو نشانہ بنایا اور اسے ایک انتہائی خوفناک صورتحال سے گزرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے متاثرہ لڑکی کی ہمت اور اس کے دوستوں کی بروقت اطلاع کو بھی سراہا، جس کی بدولت پولیس فوری کارروائی کرنے میں کامیاب ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے متاثرہ لڑکی کو انصاف ملا ہے جبکہ ایک خطرناک مجرم کو طویل عرصے کے لیے معاشرے سے دور کر دیا گیا ہے۔
