تکبیر نیوز، بیروت: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے چند گھنٹوں بعد ہی جنوبی لبنان میں ایک ڈرون حملے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود ایک ڈرون حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے جس میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ فوری طور پر حملے کی مزید تفصیلات اور جاں بحق افراد کی شناخت جاری نہیں کی گئی۔
اس سے قبل امریکا اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جسے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔
جنگ بندی سے قبل اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق مختلف علاقوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 47 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں میں اس کے ایک افسر سمیت چار فوجی ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے دوران دونوں جانب جانی نقصان ہوا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات بھی لبنان کی صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث متاثر ہوئے، جس سے علاقائی تنازعات کے حل کی کوششوں کو دھچکا پہنچا۔
ادھر امریکی صدر Donald Trump نے اسرائیلی کارروائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تاہم بعض اوقات انہیں قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزید حملوں کو روکا جا سکے گا اور خطے میں امن قائم رہے گا۔
مبصرین کے مطابق جنگ بندی کے فوراً بعد ڈرون حملے کی خبر سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے اور کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
