تکبیر نیوز، لندن: تقریباً نصف صدی بعد ایک دل دہلا دینے والے قتل کا راز بے نقاب ہونے پر برطانوی عدالت نے پانچ سالہ بچی کی جان لینے والی سوتیلی ماں کو 12 سال قید کی سزا سنا دی۔
جنوبی لندن میں 1978 میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کو کئی دہائیوں تک حادثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن برسوں بعد سامنے آنے والی نئی گواہی نے حقیقت آشکار کر دی۔ عدالت نے 67 سالہ جینس نکس کو اپنی پانچ سالہ سوتیلی بیٹی اینڈریا برنارڈ کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے غیر ارادی قتل کے جرم میں سزا سنائی۔
عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے حقائق کے مطابق اینڈریا برنارڈ کی موت اس وقت ہوئی جب اسے کھولتے ہوئے گرم پانی سے بھرے غسل خانے میں زبردستی داخل کیا گیا۔ بچی مسلسل فریاد کرتی رہی کہ پانی بہت گرم ہے، لیکن غصے میں بھری سوتیلی ماں نے اس کی ایک نہ سنی۔
اینڈریا کے بھائی ڈیزمنڈ برنارڈ نے عدالت کو بتایا کہ وہ گھر میں موجود تھے اور انہوں نے اپنی بہن کو بار بار یہ کہتے سنا کہ "پانی بہت گرم ہے”، جبکہ سوتیلی ماں مسلسل اسے غسل خانے میں جانے پر مجبور کر رہی تھی۔ چند لمحوں بعد چیخوں کی آوازیں آئیں اور پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔
گواہ کے مطابق جب وہ غسل خانے میں پہنچے تو اپنی بہن کو بے ہوش حالت میں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچی کے جسم کی جلد بری طرح جھلس چکی تھی اور اتر رہی تھی۔ شدید جھلسنے کے باعث اینڈریا کے جسم کا تقریباً 50 فیصد حصہ متاثر ہوا اور وہ اسپتال میں چھ ہفتے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گئی۔
عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ متاثرہ بہن بھائیوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ انہیں بیلٹ سے مارا جاتا اور بعض اوقات بلی کا کھانا کھانے پر بھی مجبور کیا جاتا تھا۔ ڈیزمنڈ برنارڈ نے بتایا کہ انہوں نے کئی سال تک بہن کی موت کو حادثہ قرار دیا کیونکہ وہ خود بھی خوف اور تشدد کا شکار تھے۔
مقدمے میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ڈیزمنڈ برنارڈ نے 2022 میں پولیس سے رابطہ کر کے پہلی مرتبہ واقعے کی مکمل تفصیلات بیان کیں۔ اس کے بعد تحقیقات دوبارہ شروع ہوئیں اور 2025 میں جینس نکس کو ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا۔
فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا کہ ملزمہ جانتی تھی کہ پانی انتہائی گرم ہے، بچی نے بار بار شکایت بھی کی، لیکن اس کے باوجود اسے غسل خانے میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ عدالت کے مطابق یہ ایک ایسا عمل تھا جس کے خطرناک نتائج کسی بھی شخص کے لیے واضح ہو سکتے تھے۔
متاثرہ بچی کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی بیٹی ایک محبت کرنے والی اور معصوم بچی تھی جس کی موت نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی ہر روز اپنی بیٹی کو یاد کرتی ہیں اور یہ درد کبھی ختم نہیں ہوا۔
اس مقدمے کو برطانیہ کے ان نایاب مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے جن میں کئی دہائیوں بعد انصاف کا عمل مکمل ہوا اور ایک معصوم بچی کی موت کے ذمہ دار شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔
