(تکبیر نیوز—- برطانیہ)
برطانیہ میں بچپن کے دوران مبینہ طور پر شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا شکار رہنے والی ایک خاتون نے تاریخی بچوں پر تشدد کے مقدمات میں سزاؤں کے قوانین تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انصاف کے لیے نئی مہم شروع کر دی ہے۔
58 سالہ کیرولین ایشغی کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن میں اپنی والدہ کی جانب سے مسلسل تشدد، بھوک، جسمانی اذیت اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کی والدہ کو موجودہ قانونی ضوابط کے باعث محدود سزا دی گئی۔
کیرولین کے مطابق انہوں نے برسوں بعد 2019 میں پولیس کو مبینہ زیادتیوں کی اطلاع دی، جس کے بعد تحقیقات شروع ہوئیں۔ مقدمے کے نتیجے میں ان کی والدہ پر بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ایک جرم کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔
عدالتی کارروائی کے بعد ملزمہ کو سزا سنائی گئی، تاہم جرم کے وقت نافذ قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ سزا محدود ہونے کے باعث سزا کا دورانیہ نسبتاً کم رہا۔ بعد ازاں اپیل کے بعد سزا میں تبدیلی کی گئی، لیکن کیرولین کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کی جلد رہائی نے انہیں شدید مایوس کیا۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر یہی جرائم 2005 کے بعد سرزد ہوتے تو زیادہ سخت سزائیں دی جا سکتیں، جبکہ پرانے مقدمات میں عدالتیں اس وقت کے قانون کے مطابق ہی سزا دینے کی پابند ہیں۔
کیرولین نے کہا کہ بچوں پر ظلم و تشدد جیسے سنگین جرائم میں صرف اس بنیاد پر نرمی نہیں ہونی چاہیے کہ جرم کئی سال پہلے ہوا تھا۔ ان کے مطابق ایسے مقدمات میں سزا کے تعین کے لیے موجودہ قوانین کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ متاثرین کو انصاف کا احساس مل سکے۔
انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک عوامی مہم اور درخواست بھی شروع کی ہے جسے ہزاروں افراد کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ کیرولین کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ان تمام متاثرین کے لیے ہے جو برسوں بعد ہمت کر کے انصاف کے لیے سامنے آتے ہیں۔
برطانوی وزارتِ انصاف کے ترجمان نے کہا کہ بچوں پر تشدد ایک سنگین جرم ہے جو متاثرین کی زندگی پر دیرپا اثرات چھوڑتا ہے، تاہم عدالتیں قانوناً اسی وقت کے قوانین کے مطابق سزا سنانے کی پابند ہوتی ہیں جب جرم کا ارتکاب ہوا ہو۔
دوسری جانب رکن پارلیمنٹ Andrew George نے کیرولین کی مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں پر ظلم کے مرتکب افراد کے ساتھ صرف تاریخ کی بنیاد پر مختلف سلوک ہونا انصاف کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
