(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) برطانیہ میں یہودیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب پر تشویش ناک انکشاف، میٹروپولیٹن پولیس کے کمشنر Sir Mark Rowley نے خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان اب “وبا” کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں یہود مخالف واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لندن میں مزید 300 پولیس افسران کی ضرورت ہے تاکہ حساس کمیونٹیز کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گولڈرز گرین میں چاقو حملے کے واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد پولیس نے 45 سالہ Essa Suleiman پر اقدامِ قتل اور عوامی مقام پر تیز دھار ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
Metropolitan Police کے سربراہ نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی حکمت عملی کی پائیداری کے حوالے سے بھی خدشات ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بڑھا کر “شدید” کر دی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حملے کا امکان زیادہ ہے۔
سر مارک رولی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے ہوشیار رہیں اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دے کر پولیس کی مدد کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی پالیسیوں سے اختلاف یا اتفاق کا مطلب یہ نہیں کہ برطانیہ میں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا جائے۔
پولیس کارروائی کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ افسران حالات کے مطابق ضروری طاقت استعمال کرتے ہیں، جبکہ فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر ممکنہ پابندی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر عمل درآمد کریں گے۔
