(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم) برمنگھم میں جاری صفائی ہڑتال پر تنازع شدت اختیار کر گیا، ویسٹ مڈلینڈز کے میئر Richard Parker نے سٹی کونسل حکام پر معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کا سنگین الزام عائد کر دیا۔
میئر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہڑتال ختم کرنے کی کوششوں کو “مایوسی، ٹال مٹول اور تاخیر” کا سامنا رہا، جس کے باعث معاملہ غیر ضروری طور پر طول پکڑ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ تک یونین کے ساتھ مؤثر رابطہ ہی نہیں کیا گیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برمنگھم سٹی کونسل کے سربراہ John Cotton نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا تھا کہ یونین کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، تاہم بعد میں کونسل کے ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ بیان بطور سیاسی مؤقف دیا گیا تھا، نہ کہ سرکاری سطح پر۔
میئر رچرڈ پارکر نے کونسل کے افسران اور حکومتی مقرر کردہ کمشنرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی وہ اس کے حل کے لیے مطلوبہ اقدامات کر سکے۔
دوسری جانب کونسل قیادت نے میئر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے تعاون جاری رکھیں گے اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت انتخابات کے بعد اس پر پیش رفت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ برمنگھم سٹی کونسل کو 2023 میں مالی بحران کے بعد حکومتی نگرانی میں دیا گیا تھا، جس کے تحت کمشنرز کو صنعتی تعلقات بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
یونین کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کی ایک بڑی وجہ مالی مسائل بھی بتائے جا رہے ہیں، جہاں حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایک بار اضافی ادائیگیاں کی گئیں تو دیگر ملازمین بھی مساوی دعوے کر سکتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض نے اسے الزام تراشی قرار دیا جبکہ دیگر نے حکومت سے کمشنرز کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
میئر کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اور سنجیدہ کوششیں کی جاتیں تو یہ معاہدہ بہت پہلے ہو سکتا تھا، تاہم اب بھی وہ امید رکھتے ہیں کہ جلد کوئی حل نکل آئے گا۔
