(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) برطانیہ میں والدین کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت نے اسکول یونیفارم سے متعلق نیا قانون متعارف کرا دیا جس سے تعلیمی اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
Department for Education کے تحت متعارف کرائے گئے نئے قوانین کے مطابق اب اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کے لیے زیادہ سے زیادہ تین برانڈڈ یونیفارم آئٹمز ہی لازمی قرار دے سکتے ہیں۔ تاہم سیکنڈری اسکولز میں ٹائی کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث چار اشیاء تک کی اجازت دی جا سکتی ہے اگر ان میں ایک ٹائی شامل ہو۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد والدین پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے، تاکہ مہنگی یونیفارم بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
برطانوی وزیر تعلیم Bridget Phillipson نے اس قانون کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف والدین کو مالی ریلیف ملے گا بلکہ کمزور طبقے کے بچوں کو بھی بہتر تحفظ فراہم ہوگا۔
تعلیمی اداروں سے وابستہ تنظیموں نے بھی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ پیرنٹکنڈ کے چیف ایگزیکٹو Frank Young کا کہنا ہے کہ مہنگی اسکول یونیفارم لاکھوں والدین کے لیے پریشانی کا باعث تھی اور یہ قانون اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
حکام کے مطابق یہ نیا قانون یکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جبکہ والدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر وہ یونیفارم یا کھیلوں کے لباس کے اخراجات برداشت نہ کر سکیں تو اسکول انتظامیہ سے مدد کے لیے رابطہ کریں۔
