مودی سرکار کی مسلم دشمنی، مسلمانوں کے 4500 گھر مسمار کرنیکا منصوبہ بنالیا

اتراکھنڈ ہائیکورٹ نے صدیوں سے آباد مسلمانوں کے گھروں کو ریلوے کی زمین قرار دیدیا

57

بی جے پی کی ہندو انتہا پسند حکومت نے ریاست اتراکھنڈ کے شہر نینی تال میں مسلمانوں کے ساڑھے چار ہزار گھروں کو خالی کرنے کا نوٹس دے دیا ہے۔مودی سرکار کی سازش کے خلاف ہزاروں مسلمان مرد و خواتین احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں اور 3 ڈگری کی سخت سردی میں رب کے حضور اپنے گھروں کو بچانے کی دعائیں مانگتے رہے۔20 دسمبر کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ایک حکم میں 4365 گھروں کو ریلوے کی زمین قرار دیکر مسمار کرنے کا حکم دیا تھا، نینی تال کے اس علاقے میں ہزاروں خاندان صدیوں سے آباد ہیں۔
گھروں کو خالی کرنے نوٹس ملنے کے بعد سے مقامی لوگ سراپا احتجاج ہیں اور انکا کہنا ہے کہ حکومت انکے گھروں کو گرانے سے پہلے متبادل جگہ فراہم کرے۔واضح رہے کہ بھارتی حکومت اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منظم انداز میں مسلمانوں کو انکے گھروں سے بیدخل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سے قبل کرناٹک سمیت دیگر علاقوں میں بھی مسلمانوں کے گھروں کو تجاوزات قرار دیکر گرایا جاچکا ہے۔

مزید پڑھیں:  بول نیوز کے سینئر صحافی ارشد شریف کی موت کی وجہ سامنے آگئی
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.