ایران دونوں یونانی تیل بردار بحری جہاز چھوڑ دے، امریکا اور یونان کا مطالبہ

22

امریکا اور یونان نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبضے میں لیے گئے یونان کے دونوں تیل بردار بحری جہازوں کو چھوڑ دے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور ان کے یونانی ہم منصب نیکوس ڈینڈیاس نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان جہازوں پر لدے ہوئے تیل اور عملے کو بھی رہا کر دے۔ یونانی وزارت خارجہ کی جانب سے دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اس واقعے سے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ ایران کے یورپی یونین سے تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے ان یونانی تیل بردار بحری جہازوں کو ضبط کیا تھا جسے ایران کی جوابی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ ایران کی طرف سے یہ کارروائی یونان حکومت کے اس اعلان کے بعد کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یونان قبضے میں لیے گئے روسی آئل ٹینکر پر لدا ایرانی خام تیل امریکا کے حوالے کر دے گا۔

ایرانی فوج پاسداران انقلاب نے تصدیق کی تھی کہ اس کے اہلکاروں نے خلیج فارس میں ڈیلٹا پوزیڈون اور پروڈنٹ واریئر نامی دو آئل ٹینکرز کو خلاف ورزیوں کا مرتکب ہونے پر قبضے میں لیا ہے جس پر ردعمل میں یونان نے ایران پر بحری قزاقی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک امریکی دفاعی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ دونوں یونانی تیل بردار بحری جہاز ایران کی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے اور دونوں بحری جہازوں نے اپنی ٹریکنگ ڈیوائسز (راستے کی معلومات فراہم کرنے والے آلات) کو بھی بند کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں:  بھارت، تاریخ میں پہلی بار حکومت میں ایک بھی مسلم رکن شامل نہیں ہوگا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.