تکبیر نیوز (لندن): لندن کی مشہور آکسفورڈ اسٹریٹ کا تقریباً ایک کلومیٹر طویل حصہ آج پیر سے گاڑیوں کیلئے بند کر دیا گیا ہے، جس کے بعد دنیا کی مصروف ترین خریداری کی سڑکوں میں شمار ہونے والے اس علاقے میں پیدل چلنے والوں کیلئے نئی تبدیلیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔
نئے نظام کے تحت آرچرڈ اسٹریٹ سے گریٹ پورٹ لینڈ اسٹریٹ تک گاڑیوں کی آمدورفت بند کر دی گئی ہے۔
اس حصے میں اب بسیں، ٹیکسیاں، نجی گاڑیاں، سائیکلیں، برقی اسکوٹر اور پیڈی کیب داخل نہیں ہو سکیں گے۔
سامان کی ترسیل کیلئے محدود وقت
دکانوں اور کاروباروں کیلئے سامان پہنچانے والی گاڑیوں کو رات 12 بجے سے صبح 7 بجے تک مخصوص راستوں سے داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
ہنگامی سروسز کی گاڑیاں ہر وقت اس علاقے تک رسائی حاصل کر سکیں گی۔
حرکت میں دشواری رکھنے والے افراد کیلئے مخصوص برقی گاڑیوں کی رسائی برقرار رہے گی۔
بس روٹس بھی تبدیل
آکسفورڈ اسٹریٹ پر چلنے والی متعدد بسوں کے راستے تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
کچھ بسیں اب وگمور اسٹریٹ، ہینریئٹا پلیس اور کیونڈش پلیس سے گزریں گی، جبکہ نئے بس اسٹاپ ٹریفک فری علاقے سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر قائم کیے گئے ہیں۔
چند بس روٹس اب ماربل آرچ پر ہی ختم ہوں گے۔
کرسمس سے پہلے بڑا قدم
یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب کرسمس کی خریداری کا موسم شروع ہونے والا ہے اور آکسفورڈ اسٹریٹ پر روزانہ بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔
آکسفورڈ اسٹریٹ برطانیہ کے سب سے اہم تجارتی علاقوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں اربوں پاؤنڈ کی سالانہ خریداری ہوتی ہے۔
میئر لندن لارڈ صادق خان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے آکسفورڈ اسٹریٹ کو دوبارہ دنیا کے نمایاں خریداری اور تفریحی مقامات میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔
میئر نے تاریخی موقع قرار دیا
لارڈ صادق خان نے اس تبدیلی کو لندن کیلئے ایک اہم اور تاریخی موقع قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے آکسفورڈ اسٹریٹ کو پیدل چلنے والوں کیلئے بہتر بنانے کی بات ہوتی رہی، لیکن اب پہلی مرتبہ اس منصوبے کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں یہاں ثقافتی، کھیلوں، فیشن اور دیگر عوامی تقریبات منعقد کرنے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ناقدین نے جلد بازی کا الزام لگایا
تاہم ویسٹ منسٹر سٹی کونسل نے منصوبے کے نفاذ کی رفتار پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
کونسل کے نائب رہنما ٹم بارنز کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ اسٹریٹ سے ہٹائی جانے والی ٹریفک اردگرد کی نسبتاً چھوٹی سڑکوں پر منتقل ہوگی، جس سے وہاں ٹریفک جام، شور اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صفائی، رسائی، عوامی تحفظ اور اردگرد کی سڑکوں پر اثرات سے متعلق کئی سوالات ابھی پوری طرح حل نہیں ہوئے۔
منصوبے کی نگرانی جاری رہے گی
ٹرانسپورٹ فار لندن کا کہنا ہے کہ تبدیلیوں کے اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ نئی ترتیب مقامی رہائشیوں، کاروباروں، مسافروں اور خریداروں کیلئے کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں محدود تعمیراتی کام کیا جائے گا تاکہ کرسمس کے مصروف دور میں کم سے کم خلل پیدا ہو۔
50 سے زائد نئے درخت لگانے کا منصوبہ
اگلے مرحلے میں آکسفورڈ اسٹریٹ کو مزید خوبصورت اور پیدل چلنے والوں کیلئے موزوں بنانے کا منصوبہ ہے۔
2027 کے موسم بہار تک یہاں:
- 50 سے زائد نئے درخت
- دو نئے عوامی چوک
- 100 سے زائد نشستیں
- کھانے کیلئے میزیں
- بہتر روشنیاں
- نئی سمت نما نشانیاں
لگانے کا منصوبہ ہے۔
کاروباری اداروں کی حمایت
جان لیوس، سیلفرجز اور دیگر بڑے کاروباری اداروں نے منصوبے کی حمایت کی ہے اور اسے آکسفورڈ اسٹریٹ کیلئے ایک مثبت تبدیلی قرار دیا ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک کم ہونے سے زیادہ لوگ اس علاقے میں وقت گزاریں گے، جس سے خریداری، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آکسفورڈ اسٹریٹ سے ہٹنے والی ٹریفک اور بسوں کا دباؤ اردگرد کی سڑکوں پر کس حد تک بڑھتا ہے۔
