تکبیر نیوز (نورفوک): نورفوک میں کم عمر لڑکیوں کی نجی جگہوں پر خفیہ ویڈیوز اور تصاویر بنانے والے 41 سالہ شخص کو 3 سال 8 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
گیون کلارک، ساکن Brancaster Close، Drayton، نے 2020 سے 2025 کے دوران کئی سال تک کم عمر متاثرین کی ان کی لاعلمی میں ویڈیوز اور تصاویر بنائیں۔
نورفوک پولیس کے مطابق اس کے جرائم کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک متاثرہ لڑکی کو باتھ روم میں اشیا کے پیچھے چھپایا گیا کیمرہ فون ملا۔
لڑکی نے فون چیک کیا تو اس میں اپنی ایسی ویڈیو دیکھی جو اس کی اجازت یا علم کے بغیر بنائی گئی تھی۔
اس نے اپنے والدین کو بتایا، جس کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا۔
مئی 2025 میں گرفتاری
پولیس نے کلارک کو مئی 2025 میں گرفتار کیا اور اس کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات قبضے میں لے لیے۔
تفتیش کے دوران پولیس کو مزید متاثرین کی تصاویر اور ویڈیوز ملیں، جن میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
پولیس کو اس کے آلات سے بچوں کی سینکڑوں مزید غیر اخلاقی تصاویر بھی ملیں جو ڈاؤن لوڈ کی گئی تھیں۔
نو الزامات قبول کیے
کلارک نے اس سے قبل:
- voyeurism کے 2 الزامات
- بچوں کی indecent images بنانے کے 4 الزامات
- بچوں کی indecent images لینے کے 3 الزامات
قبول کر لیے تھے۔
عدالت نے 44 ماہ قید کی سزا سنائی
نارویچ کراؤن کورٹ نے 29 اکتوبر کو کلارک کو 44 ماہ قید کی سزا سنائی۔
اسے:
- تاحیات Sex Offenders’ Register میں شامل کیا گیا
- غیر معینہ مدت کا restraining order دیا گیا
- 10 سالہ Sexual Harm Prevention Order جاری کیا گیا
متاثرین پر دیرپا اثرات
عدالت میں پڑھے گئے متاثرین کے بیانات میں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد انہیں شدید صدمے، خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ اب وہ عوامی بیت الخلا استعمال کرتے وقت بھی چھپے ہوئے آلات تلاش کرتی رہتی ہے۔
متاثرین کی شناخت قانونی تقاضوں کے تحت ظاہر نہیں کی گئی۔
پولیس نے متاثرین کی ہمت کو سراہا
نورفوک پولیس کے Detective Sergeant Ash Parker نے متاثرین کی ہمت اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ کلارک کے جرائم نے ان کی رازداری اور وقار کو شدید نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ جنسی نوعیت کے جرائم صرف جسمانی رابطے تک محدود نہیں ہوتے، اور voyeurism جیسے جرائم بھی متاثرین پر دیرپا ذہنی اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔
پولیس نے ایسے کسی بھی شخص سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے جو اسی نوعیت کے جرم کا نشانہ بنا ہو۔
