تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ میں بڑھتے ہوئے گھریلو کرایوں اور منجمد سرکاری امداد کے باعث کم آمدنی والے ہزاروں معمر کرایہ دار شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ فلاحی ادارے انڈیپنڈنٹ ایج نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لوکل ہاؤسنگ الاؤنس کو رواں بجٹ میں فوری بڑھایا جائے اور آئندہ ہر سال کرایوں کے مطابق اس میں اضافہ کیا جائے۔
ادارے کی نئی رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ اخراجات کے بعد نجی شعبے میں کرائے پر رہنے والے تقریباً ایک تہائی معمر افراد غربت کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2024 سے لوکل ہاؤسنگ الاؤنس کی شرح منجمد ہے، جبکہ اس دوران ایک بیڈروم والے گھر کا اوسط کرایہ تقریباً 18 فیصد بڑھ چکا ہے۔
69 فیصد معمر کرایہ داروں کو مکمل کرایہ نہیں ملتا
انڈیپنڈنٹ ایج کے تجزیے کے مطابق ہاؤسنگ بینیفٹ حاصل کرنے والے تقریباً 69 فیصد معمر نجی کرایہ داروں کو ملنے والی امداد ان کے مکمل کرائے کو پورا نہیں کرتی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اپنی محدود پنشن یا دیگر آمدنی سے باقی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ لوکل ہاؤسنگ الاؤنس کا مقصد مقامی مارکیٹ کے کم ترین 30 فیصد کرایوں کو پورا کرنا ہے، لیکن موجودہ شرح اور اصل کرایوں کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔
کھانا اور ہیٹنگ تک کم کرنے پر مجبور
رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ بینیفٹ لینے والے ہر پانچ میں سے تین معمر کرایہ دار کرایہ ادا کرنے کے لیے ضروری اخراجات میں کمی کر رہے ہیں۔
ایک چوتھائی سے زیادہ افراد نے بتایا کہ انہوں نے گھر گرم رکھنے کے اخراجات میں کمی کی، جس سے خصوصاً زیادہ عمر کے افراد کی صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
کچھ لوگوں نے بتایا کہ وہ صرف محدود مقدار میں بنیادی خوراک خریدتے ہیں تاکہ کرایہ ادا کر سکیں۔
ایک معمر شخص نے کہا کہ اس نے ہفتہ وار سماجی کلب جانا بھی چھوڑ دیا کیونکہ 7 پاؤنڈ کا خرچ بھی اب برداشت سے باہر تھا۔
خراب اور غیر محفوظ گھروں میں رہنے پر مجبور
رپورٹ میں ایسے معمر افراد کے تجربات بھی شامل کیے گئے ہیں جو کم ہاؤسنگ الاؤنس کی وجہ سے بہتر یا محفوظ گھر میں منتقل نہیں ہو پا رہے۔
ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا فلیٹ اتنی خراب حالت میں ہے کہ اس نے مہمان بلانا چھوڑ دیا، جبکہ سردیوں میں اسے گرم رکھنا انتہائی مہنگا پڑتا ہے۔
ایک دوسری معمر خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کی کھڑی سیڑھیوں سے کئی بار گر چکی ہے اور مزید حادثے سے بچنے کے لیے بعض اوقات الٹی سمت میں رینگ کر نیچے اترتی ہے، لیکن مناسب گھر اس کے بجٹ میں دستیاب نہیں۔
بے گھر ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معمر گھرانوں میں بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار افراد کی تعداد 16,440 تک پہنچ چکی ہے، جسے ریکارڈ کی بلند ترین سطح قرار دیا گیا ہے۔
انڈیپنڈنٹ ایج کے مطابق گھروں کی عدم استطاعت اور ہاؤسنگ الاؤنس کے منجمد رہنے کا اس صورتحال سے گہرا تعلق ہے۔
ادارے نے ایک ایسی خاتون کا حوالہ دیا جس کا مالک مکان گھر فروخت کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے بیٹی اور خصوصی ضروریات رکھنے والے نواسے کے قریب رہنا چاہتی تھی، لیکن ہاؤسنگ الاؤنس کی حد میں کوئی مناسب گھر نہ ملنے کے باعث بے گھر ہوگئی اور کئی ماہ غیر موزوں عارضی رہائش میں گزارنے پڑے۔
حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ
انڈیپنڈنٹ ایج کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں مزید سماجی رہائش گاہیں تعمیر کرنا مسئلے کے حل کا اہم حصہ ہے، لیکن موجودہ معمر کرایہ دار فوری مدد کے محتاج ہیں۔
ادارے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
- لوکل ہاؤسنگ الاؤنس کو رواں سال کے بجٹ میں بڑھایا جائے
- آئندہ ہر سال اسے کرایوں میں اضافے کے مطابق نظرثانی کیا جائے
- کم آمدنی والے کرایہ داروں کو بڑھتے کرایوں کے مقابلے میں حقیقی تحفظ دیا جائے
فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ الاؤنس میں اضافہ نہ ہونے کی صورت میں مزید معمر افراد غربت، غیر محفوظ رہائش اور ممکنہ بے گھری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
