تکبیر نیوز (لندن): ہنسلو میں اکیلی رہنے والی ایک بزرگ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کی مبینہ دھمکیوں، ہراسانی اور تشدد کے خوف کے باعث مسلسل خوف کی حالت میں زندگی گزار رہی ہیں، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات اور پولیس رپورٹس کے باوجود انہیں محفوظ مقام پر منتقل نہیں کیا گیا۔
خاتون کی شناخت تحفظ کے لیے Ms A کے نام سے ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے متعدد بار ہنسلو کونسل سے مدد اور رہائش کی تبدیلی کی درخواست کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس کئی مرتبہ عمارت میں آ چکی ہے اور مختلف واقعات کے حوالے سے متعدد کرائم ریفرنس نمبرز بھی موجود ہیں۔
زبردستی داخل ہونے اور ادویات لینے کے الزامات
Ms A نے دعویٰ کیا کہ ان کے پڑوسیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ان کے گھر میں زبردستی داخل ہونے، رقم مانگنے، ادویات لے جانے اور کھڑکیاں توڑنے جیسے واقعات پیش آئے۔
انہوں نے بتایا کہ گھر میں منتقل ہونے کے پہلے ہی ہفتے ایک خاتون پڑوسن فون استعمال کرنے کے بہانے اندر آئی، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر رقم اور نسخے کی ادویات کا مطالبہ کیا۔
Ms A کے مطابق بعد میں ہراسانی میں اضافہ ہوا اور دروازے اور کھڑکیوں پر بار بار دستک، رقم کے مطالبات اور مبینہ نسلی گالیاں بھی دی گئیں۔
یہ تمام الزامات خاتون کے دعوؤں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
شدید جسمانی مشکلات کا بھی سامنا
رپورٹ کے مطابق خاتون کو نقل و حرکت میں شدید مشکلات، آسٹیوپوروسس، دائمی درد اور فالج کے بعد کی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔
وہ دن میں تین مرتبہ کیئر ورکر کی مدد بھی لیتی ہیں اور PTSD اور بے چینی سے بھی متاثر بتائی گئی ہیں۔
خاتون کا کہنا ہے کہ خوف کے باعث وہ اپنے پوتے پوتیوں یا خاندان کو گھر نہیں بلا سکتیں اور موبیلٹی اسکوٹر استعمال کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔
رہائش کی تبدیلی پر اختلاف
2024 میں انہیں نو فالٹ ایویکشن نوٹس ملا تھا، جس کے بعد ہنسلو کونسل نے پہلے انہیں ہوٹل میں اور پھر ساؤتھ آل میں ایک بیڈ روم فلیٹ میں منتقل کیا۔
رپورٹ کے مطابق Local Government Ombudsman نے انہیں سپورٹ نیٹ ورک کے قریب دو بیڈ روم رہائش فراہم کرنے کی ضرورت پر فیصلہ دیا تھا، تاہم خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے خاندان سے تین بسوں کے فاصلے پر ہیں۔
ہنسلو کونسل نے ایمرجنسی ٹرانسفر کی درخواست قبول نہیں کی اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ معاملات کی ذمہ داری ان کے لینڈ لارڈ Sapphire Housing کی ہے۔
ہاؤسنگ ایسوسی ایشن: قانونی کارروائی شروع کردی
Sapphire Housing نے کہا ہے کہ وہ خاتون کے خدشات کو نظرانداز نہیں کر رہی اور مبینہ اینٹی سوشل رویے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر چکی ہے۔
ادارے کے مطابق عدالت میں سماعت کی تاریخ کا انتظار ہے، جبکہ Ms A اور دیگر رہائشیوں سے رابطہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
Sapphire Housing نے یہ بھی کہا کہ محدود ہاؤسنگ اسٹاک کی وجہ سے خاتون کی پسند کے علاقوں میں مناسب خالی پراپرٹی دستیاب نہیں۔
ہنسلو کونسل نے کیا کہا؟
ہنسلو کونسل کے ترجمان کے مطابق خاتون کی بے گھر ہونے کی درخواست کی تحقیقات کی گئی تھیں۔
کونسل کا کہنا ہے کہ Sapphire Housing بطور لینڈ لارڈ ضروری اقدامات کر رہی ہے، اسی بنیاد پر Ms A کے حوالے سے “not homeless” فیصلہ جاری کیا گیا۔
کونسل کے مطابق موجودہ مرحلے پر شکایات کی تحقیقات اور مناسب کارروائی کی ذمہ داری Sapphire Housing کی ہے۔
ادھر Ms A کا کہنا ہے کہ مسلسل خوف اور ذہنی دباؤ نے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت مزید خراب کردی ہے اور وہ اپنے ہی فلیٹ میں خود کو “مسلسل دہشت” میں پھنسا ہوا محسوس کرتی ہیں۔
